Official Web

ایسی ٹیکنالوجی جس سے کلر بلائنڈ افراد کی ’نظر‘ رنگین ہوسکتی ہے

سائنس دان ایک ایسا کنٹیکٹ لینس بنانے میں کامیاب ہوگئے جس کو لگانے کے بعد کلربلائنڈ افراد بھی دنیا میں بکھرے رنگوں کو دیکھ سکیں گے۔

آنکھ اور بینائی سے متعلق سائنسی اور تحقیقی جریدے ’آپٹک لیٹرز‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ایسے کٹیکٹ لینس بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کے استعمال سے کلر بلائنڈ افراد کو تمام رنگ بالخصوص سرخ رنگ نظر آنے لگے گا اور وہ سبز و سرخ رنگ میں بآسانی فرق کر پاتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کلر بلائنڈ افراد کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

یوں تو اسکاٹ مین کے سائنس دان جیمس کلارک میکسویل نے انیسویں صدی میں کلر بلائنڈ افراد کو رنگ دیکھنے میں مدد دینے کے لیے کافی کام کیا تھا جس میں نینو مالیکیول کے ذریعے کسی ایک رنگ کو دوسرے زیادہ چمکدار بنانا شامل تھا۔

اس ٹیکنالوجی میں جدت اتفاقیہ طور پر اس وقت آئی جب چند سال قبل میٹرولوجسٹ ڈان میک پرسن نے حادثاتی طور پر نایاب ذرات کو شفاف مادے میں سرایت کرانے میں کامیاب ہوگئے اور لائٹ فلٹرنگ کا ہدف بھی حاصل کرلیا۔

Color Blind 2

کلر بلائنڈز کے لیے خصوصی عینک بنانے والی کمپنی انکوروما نے اس تحقیق کو مزید آگے بڑھایا اور اس تھیوری کی مدد سے ایسا لینس بنانے میں کامیاب ہوگئی جس کو پہن کر کلر بلائنڈ افراد سرخ اور سبز رنگ کو الگ الگ پہچان لیتے ہیں۔

انسانی آنکھ کے پچھلے حصے ریٹینا پر خاص خلیے موجود ہوتے ہیں جنہیں کونز کہا جاتا ہے۔ ان کونز کا کام رنگوں میں فرق کو محسوس کرنا ہے۔ اگر ان کونز میں خرابی پیدا ہوجائے تو یہ  مختلف رنگوں کی طول موج (weave length) کے مطابق ڈھل نہیں پاتی اور رنگوں کا امتزاج کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ انکوروما کے لینس میں کونز کی اسی خرابی کو دور کیا گیا ہے اور رنگوں کی طول موج سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کلر بلائنڈ افراد کئی رنگوں کے درمیان فرق نہیں کر پاتے خاص کر سرخ اور سبز رنگ کے درمیان فرق کرنا ناممکن ہوتا ہے اس لیے ایسے لوگ ٹریفک سگنل کو نہیں دیکھ پاتے کیونکہ انہیں ہر رنگ زیادہ تر گرے یا سفید ہی نظر آتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیماری موروثی، پیدائشی اور جنیاتی نقص کے باعث ہوسکتی ہے اس کے علاوہ کچھ ادویہ جیسے ہائیڈرو کلورو کیون اور اتھیم بوٹل سے بھی مرض ہوسکتا ہے۔ نومولود کو اچھالنے سے بھی پردے پر فرق پڑ سکتے ہیں اور یہ بیماری ہوسکتی ہے۔

Comments
Loading...