Official Web

اومیگا 3 کیپسول کے منفرد فوائد

غذائی ماہرین کے مطابق اومیگا 3 فیٹی ایسڈز  دل کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی مفید ہیں کیونکہ اومیگا3 فیٹی ایسڈز مچھلی کے تیل سے حاصل کیے جاتے ہیں جس میں انسانی صحت کے لیے منفرد فوائد کے راز چھپے ہیں۔

 

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر روز مچھلی کے تیل کے کیپسول کھا لیے جائیں تو اچھی صحت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

 

جسمانی دفاعی نظام کی مضبوطی

متعدد ممالک میں Polyunsaturated fatty acid مختلف غذاؤں جیسے مکھن یا مارجرین میں شامل کیے جاتے ہیں، یہ وہ جز ہے جو مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز میں بھی پایا  جاتا ہے جو کہ جسمانی دفاعی نظام اور قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے  اور ساتھ ہی جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

 

ہڈیوں کے لیے طاقتور

میری لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اومیگا 3 فیٹی ایسڈز ہڈیوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں، یہ فیٹی ایسڈز جسم میں کیلشیئم کے جذب ہونے کی مقدار کو بڑھاتے ہیں اور پیشاب کے ذریعے ان کے اخراج کو کم کرتے ہیں، جس سے ہڈیوں کی مضبوطی اور نشوونما کو فروغ ملتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

جسم میں وٹامن ڈی کم ہونے کی غیر معمولی علامات جانیے

خشک میوہ جات کا استعمال کینسر اور قبل از وقت موت سے بچا سکتا ہے

وٹامن ڈی کی کمی سے اعصابی بیماری میں مبتلا ہونے کا امکان

ڈپریشن سے نجات

مچھلی کے تیل کا اہم جز اومیگا 3 فیٹی ایسڈز صحت مند دماغ کے لیے اہم ہوتے ہیں جو ڈپریشن کے شکار افراد پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

 

دل کو تحفظ فراہم کرتا ہے

تحقیق کے مطابق اومیگا3 کیپسول امراض قلب کے بہت سے خطرات کو کم کرتے ہیں، یہ تیل خون میں موجود فیٹس کی سطح کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ خون کو جمنے یا لوتھڑے بننے سے روکنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کولیسٹرول بھی متوازن رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

 

کمزور بالوں سے نجات دلائے

مچھلی کے تیل میں موجود وٹامن اے اور ڈی کمزور بالوں کے مسئلے سے نجات دلاتا ہے اور ساتھ ہی کیلشیئم اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

 

بینائی کے لیے مفید

اس تیل میں موجود فیٹی ایسڈز  آنکھوں کی بینائی کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور دیگر امراض جیسے انفیکشن وغیرہ سے تحفظ فراہم کرنے کا باعث ہوتے  ہیں۔

 

نوٹ: یہ معلومات مختلف انٹرنیشنل جرنلز میں شائع شدہ تحقیقات سے حاصل کی گئی ہیں۔ اگر آپ کسی بیماری میں مبتلا ہیں تو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

Comments
Loading...