Official Web

مضبوط بیکٹیریا، کیموتھراپی کو ناکام بناسکتے ہیں

لندن: ماہرین نے کہا ہے کہ جس تیزی سے بیکٹیریا (جراثیم) توانا ہوکر اینٹی بایوٹکس کو ناکام بنارہے ہیں تو بہت جلد وہ کیموتھراپی کو بھی ناکام بنادیں گے۔ خیال ہے کہ شاید یہ مشکل لمحہ اگلے دس برس میں سامنے آجائے گا۔

اس کی وجہ ایک سروے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کینسر کے علاج کے لیے کیموتھراپی کا طریقہ ترک کرنا ہوگا کیونکہ جراثیم اب اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ وہ مؤثر ترین اینٹی بیکٹیریل ادویہ سے بھی ختم نہیں ہوتے۔ کیموتھراپی سے مریض کا اپنا قدرتی دفاعی نظام کمزور ہوجاتا ہے اور وہ کئی بیماریوں کے سامنے ایک تر نوالہ بن سکتا ہے۔ اب اگر اس حالت میں کوئی مرض لاحق ہوجاتا ہے تو اینٹی بایوٹک ادویہ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گی۔

اس سروے میں برطانیہ میں چوٹی کے 100 ماہرینِ سرطان نے حصہ لیا اور ان کی 95 فیصد تعداد نے کہا کہ وہ تیزی سے توانا ہوتے جراثیم یا سپر بگز سے اپنے مریضوں کے متعلق مایوس ہوتے جارہے ہیں۔

اسی طرح کینسر کے 20 فیصد مریضوں کو علاج کے دوران اینٹی بایوٹکس دی جاتی ہیں، مثلاً لیوکیمیا کےعلاج میں اینٹی بایوٹکس ایک لازمی جزو کا درجہ رکھتی ہے۔ اس طرح 46 فیصد ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ اگلے پانچ برس میں ادویہ سے مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا اور جراثیم کیموتھراپی کو ناکام بنادیں گے لیکن اس میں پانچ سال لگیں گے اور اگلے دس برس بعد یہ صورتحال مزید گھمبیر ہوجائے گی۔

اس ضمن میں کسی مخصوص کینسر کا نام نہیں لیا جارہا کیونکہ اکثر اقسام کے کینسر کی کیموتھراپی ہر طرح سے جسم کو کمزور کرتی ہے۔ دوسری جانب کیموتھراپی شروع ہوتے ہی 41 فیصد مریضوں میں ایک سال کے بعد ہی جو انفیکشن پیدا ہوئے وہ کسی اینٹی بایوٹکس سے قابو میں نہ آسکے۔ اس طرح اگر کینسر کا کوئی مریض جراحی کے عمل سے گزرتا ہے تو اس میں کسی بیماری کے جراثیم سے متاثر ہونے کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

یہ سب کیموتھراپی کی وجہ سے ہورہا ہے کیونکہ وہ جسم کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کردیتی ہے۔ لیکن یہ کیفیت صرف کینسر کے مریضوں تک مخصوص نہیں کیونکہ ٹی بی جیسے مریضوں پر بھی ٹی بی کی پرانی اینٹی بایوٹکس ادویہ اثر نہیں کررہیں اور ہر سال سات لاکھ افراد صرف اس وجہ سے مررہے ہیں کہ انفیکشن کسی بھی اینٹی بایوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوپارہا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اگر ہم نئی اینٹی بایوٹکس بنانے میں ناکام ہوگئے تو سال 2050 تک ہر سال مرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ تک جاپہنچے گی۔

Comments
Loading...