Official Web

سٹاک مارکیٹ میں 399.17 پوائنٹس کی زبردست تیزی، مزید 4 حدیں بحال

لاہور: (ویب ڈیسک) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں پاکستان کے گرے لسٹ میں جانے کے خدشات کے بادل چھٹنے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔ حصص مارکیٹ کا 100 انڈیکس 399.17 پوائنٹس بڑھ گیا۔

تفصیلات کے مطابق پہلے کاروباری روز کے دوران سٹاک مارکیٹ میں ملا رحجان کے باعث کاروبار کا اختتام 33.67 پوائنٹس کی تیزی کے بعد 40276.93 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا تھا۔

دوسرے کاروباری روز کے دوران سٹاک مارکیٹ میں 101.58 پوائنٹس کی مندی دیکھی گئی، مندی کے باعث 40175.35 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا تھا۔

آج تیسرے کاروباری روز کے دوران پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا، پہلے دو گھنٹوں کے دوران انڈیکس میں 200 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی۔

تیزی کا زبردست تسلسل آگے جا کر دیکھنے کو ملا، دوپہر 12 بجے کے قریب انڈیکس میں 40600 کی حد بحال ہو گئی تھی۔ تاہم اس دوران اگلے ایک گھنٹے کے دوران انویسٹرز دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر چل نکلے اور انڈیکس میں غیر یقینی صورتحال کے باعث انڈیکس 40492.97 پوائنٹس کی سطح پر دیکھا گیا۔ آج کاروبار کے دوران انڈیکس ایک موقع پر 40644.06 پوائنٹس کی بلندترین سطح پر دیکھا گیا۔

کاروبار کا اختتام 399.17 پوائنٹس کی تیزی پر ہوا جس کے بعد مارکیٹ کا 100 انڈیکس 40574.52 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔

سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کے باعث انڈیکس کی مزید 4 حدیں بحال ہو گئیں۔ بحال ہونے والی حدوں میں 40200، 40300، 40400، 40500 کی حدیں شامل ہیں۔

پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.98 فیصد بہتری دیکھی گئی جبکہ پورے کاروباری روز کے دوران 10 کروڑ 95 لاکھ 59 ہزار 610 شیئرز کا لین دین ہوا۔ پورے کاروبایر روز کے دوران سرمایہ کاروں کو تقریباً 65 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی بڑی وجوہات میں سے ایک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معاملے پر خدشات کے بادل چھٹنا ہے جس کے باعث سرمایہ کار مارکیٹ میں زبردست دلچسپی لے رہے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں تیزی کا تسلسل دیکھنے کو ملے گا۔

واضح رہے کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیل نہیں سکتا، پاکستان کو بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل ہو گئی ہے، پاکستان کو ترکی، چین، ملائیشیا، سنگاپور، ہالینڈ، ہانگ کانگ، کینیڈا، امریکا، فرانس، جاپان، سعودی عرب اور برطانیہ کی حمایت مل گئی ہے۔

Comments
Loading...