Official Web

کشمیر سے متعلق طیب اردوان کے بیان پر بھارت تلملا گیا

نئی دہلی:مقبوضہ کشمیر سے متعلق ترک صدر طیب اردوان کے بیان سے بھارت تلملا گیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے ترک صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئےکہا کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور اس معاملے سمیت پاکستان کی طرف سے بھارت اور خطے میں دہشتگردی کے ابھرتے ہوئے بڑے خطرے کے حقائق کو مکمل طور پر سمجھے۔

ANI

@ANI

Ministry of External Affairs (MEA): We call upon the Turkish leadership to not interfere in India’s internal affairs and develop proper understanding of the facts, including the grave threat posed by terrorism emanating from Pakistan to India and the region. https://twitter.com/ANI/status/1228525497048428545 

ANI

@ANI

Ministry of External Affairs (MEA) on response to queries on references to Jammu & Kashmir by Turkish President & the Turkey-Pakistan Joint Declaration: India rejects all references to Jammu & Kashmir, which is an integral and inalienable part of India.

View image on Twitter
319 people are talking about this

واضح رہےکہ گزشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کی اور کہا کہ کشمیر ترکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسا پاکستان کے لیے ہے۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستان کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔

کشمیر کی صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔

بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

مقبوضہ وادی میں کئی ماہ سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے جب کہ مریضوں کے لیے ادویات بھی ناپید ہوچکی ہیں، ریاستی جبر و تشدد کے نتیجے میں متعدد کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

Comments
Loading...