Official Web

مشرق وسطیٰ کشیدگی افغان امن عمل متاثرکر سکتی ہے،سعودی عرب کو آگاہ کردیا گیا

ریاض:  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو کم نہ کیا گیا تو یہ خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ کشیدگی پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے کیونکہ اس سے افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

ان خدشات کا اظہار وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے کے دورے کے موقع پر اپنے ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کے دوران کیا۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور خطے میں امن وامان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے خطے کے دیگر وزرائے خارجہ سے ہونیوالے روابط سے بھی انھیں آگاہ کیا۔

 

ملاقات کے دوران وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے، اس کشیدہ صورتحال کو اعتدال پر لانے اور خطے کے امن واستحکام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ معاملات کو سفارتی ذرائع بروئے کار لا کر پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا جائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ تمام فریقین صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور گفت وشنید کا راستہ اپنانے پر آمادہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ اگر آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے بروقت اقدام نہ اٹھائے گئے تو یہ خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ ایران اور امریکا دونوں اپنے اپنے بیانات میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ضروری ہے کہ فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے تاکہ معاملات افہام و تفہیم کیساتھ، پر امن انداز میں طے پا سکیں۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں اضافے سے افغان امن عمل، جو اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ملاقات کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی بحرانی کیفیت پر قابو پانے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی امن کاوشوں کو سراہا اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے دورے اور کوششوں کا خیر مقدم کیا۔

اس سے قبل وزیر خارجہ اپن دورہ مکمل کر کے ایران سے روانہ ہوئے تو مہر آباد ایئرپورٹ پر ایران کی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے مغربی ایشیا محمد موسوی، تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور سید فواد شیر اور دیگر افسران نے وزیر خارجہ کو الوداع کیا۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں خطے کے ممالک کے دورے کے پہلے حصے میں 12 اور 13 جنوری کو ایران کا دورہ کیا جس کا مقصد کشیدگی اور تناؤ میں کمی لانا اور سفارتی ذرائع سے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

ایران کے دورے کے دوران وزیر خارجہ نے ایرانی صدر حسن روحانی، اپنے ایرانی ہم منصب وزیر خارجہ جواد ظریف اور مشہد کے گورنر جنرل خراسان رزاوی سے ملاقات کی۔

شاہ محمود قریشی نے ملاقات کے دوران پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔

وزیرخارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی پاکستان خطے میں کسی جنگ یا تنازع کا حصہ بنے گا۔

وزیرخارجہ نے زور دیا کہ صورتحال کی پیچیدگی کے باوجود پاکستان امن کے لیے کام جاری رکھے گا کیونکہ یہ خطے اور دنیا کے اجتماعی مفاد میں ہے اور اس تناظر میں پاکستان سب فریقین پر زور دیتا ہے کہ معاملے میں تعمیری انداز اپنائیں تاکہ امن برقرار رہے جبکہ سفارتی ذرائع سے حل تلاش کیا جائے۔

صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے دورے کو سراہا اور امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سہولت کاری سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو تسلیم کیا۔

وزیرخارجہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت اور اس تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جلد حل کے لیے ایران کی بھرپور و مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 8 جنوری کو امریکا اور ایران کے مابین پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کے پیش نظر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعودی عرب، ایران اور امریکا کے دوروں کی ہدایت کی تھی۔

 

Comments
Loading...