Official Web

سی ای او ایگزیم بینک کیلیے کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری نہ ہو سکا

اسلام آباد: 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی)کی جانب سے ابھی تک ایکسپورٹ،امپورٹ بینک آف پاکستان(ایگزیم بینک پاکستان) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عرفان بخاری فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ(ایف پی ٹی) کلیئرنس کا سرٹیفکیٹ جاری نہ ہونیکا انکشاف ہوا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے عرفان بخاری کو 3  سال کی مدت کیلیے ایگزیم بینک کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔

ترجمان اسٹیٹ بینک عابد قمر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے ابھی تک ایگزیم بینک کے سی او کا ایف پی ٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب،،ایکسپریس،،کو دستیاب دستاویز کے مطابق 24 دسمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میںخزانہ ڈویژن کی پیش کردہ سمری میں ایگزیم بینک کے سی او کی تقرری کیلیے عرفان بخاری،شہباز ایچ سید اور حسن رضا پر مشتمل3ناموں کا پینل بھیوایا گیا تھا جسکا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وفاقی کابینہ نے عرفان بخاری کو ایگزیم بینک کا سی ای او تعینات کرنے کی منظوری دی تھی اور اس تقرری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) کے ایف پی ٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ سے مشروط کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کی جانب سے دی جانیوالی منظوری کے مطابق اگر عرفان بخاری تعیناتی کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد 15دن کے اندر اندت تعیناتی کی پیشکش قبول نہیں کرتے تو اس صورت میں پینل میں دوسرے نمبر پر شامل شہباز ایچ سید کو پیشکش کی جائے گی اور اگر وہ بھی 15 دن میں پیشکش قبول نہیں کرتے تو پھر اس صورت میں پینل میں تیسرے نمبر پر شامل حسن رضا کو اس عہدے کی تقرری کیلیے پیشکش کی جائے گی۔

تاہم اس کیلیے اسٹیٹ بینک سے ایف پی ٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ لازمی حاصل کرنا ہوگا تاہم اگر عرفان بخاری یہ پیشکش قبول نہیں کرتے تو انکی جگہ دوسرے اور تیسرے نمبر سے جو بھی آفر قبول کرے گا اسے وہی سیلری پیکج دیا جائے گا جو وفاقی کابینہ کی جانب سے عرفان بخاری کیلئے طے کیا گیا ہے۔

سمری میں بتایا گیا ہے کہ ایگزیم بینک کے سی ای او کی تقرری کیلیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اپنے کمنٹس نہیں دیے گئے ہیں لہٰذا اب اسٹیٹ بیبنک سی ای او ایگزیم بینک کی تقرری کا ایف پی ٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹس جاری کرتے وقت اپنی رائے دے سکتا ہے ۔

Comments
Loading...