Official Web

چین کا ’’زمینی سورج‘‘ اس سال کام شروع کردے گا

بیجنگ: نئے سال کی سب سے پہلی اور اہم ترین سائنسی خبر یہ ہے کہ چین نے اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے، دنیا کے سب سے پہلے ’’فیوژن بجلی گھر‘‘ کا کام تقریباً مکمل کرلیا ہے جو اس سال کسی بھی وقت اپنا کام شروع کردے گا۔

واضح رہے کہ اب تک دنیا میں جتنے بھی ایٹمی بجلی گھر ہیں، وہ سب کے سب بھاری ایٹموں کو توڑ کر توانائی پیدا کرتے ہیں جسے بعد ازاں بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ’’فشن‘‘ کہا جاتا ہے۔

ان کے برعکس، ’’فیوژن‘‘ کے عمل میں دو ہلکے ایٹموں (یعنی ہائیڈروجن ایٹموں) کو زبردست توانائی پر آپس میں ملایا جاتا ہے جس سے ایک نیا اور قدرے بھاری ایٹم وجود میں آتا ہے؛ جبکہ اس عمل میں بھی زبردست توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ عین وہی عمل ہے جس نے پچھلے پانچ ارب سال سے ہمارے سورج کو روشن رکھا ہوا ہے؛ اور جو زمین پر زندگی کے وجود اور بقاء کی ضمانت بھی ہے۔
سائنسداں پچھلے 70 سال سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ فشن کی طرح فیوژن کے عمل کو بھی اپنے قابو کرکے بجلی بنانے میں استعمال کرلیں، مگر آج بھی ہمیں ہر سال یہی سننے کو ملتا ہے کہ فیوژن بجلی گھر پر امید افزاء پیش رفت ہوئی ہے اور وہ ’’بہت جلد‘‘ کام شروع کردے گا۔

اگر ایٹمی بجلی گھر (جسے زیادہ صحیح الفاظ میں ’’فشن بجلی گھر‘‘ کہنا چاہیے) بنانا مشکل اور مہنگا کام ہے تو فیوژن بجلی گھر بنانا اس سے بھی ہزار گنا مہنگا اور مشکل ہے۔ البتہ، اتنا ضرور طے ہے کہ اگر ہم فیوژن بجلی گھر بنانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ فشن بجلی گھروں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ توانائی پیدا کرے گا جبکہ وہ انتہائی صاف ستھری توانائی ہوگی۔

پچھلے کئی عشروں سے فیوژن بجلی گھروں پر ’’تھرمو نیوکلیئر ری ایکٹر‘‘ یا ’’ٹوکامیک ری ایکٹر‘‘ کے عنوان سے کام ہورہا ہے جس میں عالمی اشتراک سے لے کر علاقائی تنظیمیں اور انفرادی ممالک تک شریک ہیں۔

ایسے میں چین کی جانب سے یہ خبر بہت معنی خیز ہے کہ وہ اس سال، یعنی 2020 میں، کسی بھی وقت اپنے ’’ایچ ایل 2 ایم ٹوکامیک‘‘ ری ایکٹر کا افتتاح کردے گا۔ امریکی جریدے نیوز ویک کے مطابق، چینی ماہرین نے فیوژن بجلی گھر بنانے کے سلسلے میں ایک ایسا اہم ترین سنگِ میل عبور کرلیا ہے جس کی بدولت اس سال چینی ساختہ ٹوکامیک ری ایکٹر لازماً کام شروع کردے گا۔

Comments
Loading...