Official Web

پھلوں کے ذریعے صحت مند بنیے

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ رنگ برنگے، رسیلے پھل اللہ کی خاص نعمتوں میں سے ہیں۔ پاکستان میں ہر طرح کے موسمی پھل دستیاب ہیں۔ پھلوں میں تمام غذائی اجزاء، وٹامنز اور معدنیات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ پھل کھانے سے آدمی تندرست و توانا رہتا ہے۔

مثل مشہور ہے کہ سیب کا روزانہ استعمال ڈاکٹر اور بیماری سے دور رکھتا ہے۔ بیماری کے دوران پھلوں کے استعمال کی خاص طور پر تاکید کی جاتی ہے۔ کیلا، آڑو، ناشپاتی کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے کیونکہ ان پھلوں میں پوٹاشیم ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

صحت مند اور تروتازہ رہنے کے لیے تازہ اور رس بھرے پھلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ ذیل میں عوام الناس کی رہنمائی کے لیے مشہور پھلوں کے خواص اور ان کے استعمال کے فوائد اور مختلف بیماریوں کے دوران ان کے استعمال کے بارے میں ضروری معلومات دی جا رہی ہیں:

کھجور:

کھجور میں بے حد غذائیت ہے، تازہ خون پیدا کرتی ہے، ہاضم ہے۔ معدہ، جگر اور باہ کو قوت بخشتی ہے، جسم کو فربہ کرتی ہے، لقوہ اور فالج جیسے امراض میں بہت مفید رہتی ہے۔ کھجور میں تمام غذائی اجزاء، وٹامنز اور معدنیات شامل ہوتے ہیں۔

کھجور کی گٹھلیاں بھی کئی امراض کا علاج ہیں۔ مثلاً اسہال بند کرتی ہیں۔ جلی ہوئی گٹھلیوں کا سفوف بہتا ہوا خون بند کر دیتا ہے اور زخم کو صاف کرتا ہے، اس سفوف کو بطور منجن استعمال کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔ (کتاب المفردات)

علماء نے لکھا ہے کہ مدینہ شریف کی کھجوروں میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ دل کے درد، دل کے دورے کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ احادیث میں ہے کہ جو شخص مدینہ کی سات کھجوریں صبح کھایا کرے اس کو زہر اور جادو کبھی اثر نہیں کرے گا۔ کھجور کے دیگر فوائد درج ذیل ہیں:

-1جسمانی کمزوری کے لیے خاص طور پر جب کسی کو کچھ عرصہ کھانے کو نہ ملے تو توانائی جلد بحال کرنے کے لیے کھجور کا باقاعدہ استعمال کیا جائے۔ -2دبلا پن دور کرنے کے لیے کھجور کے ساتھ کھیرا، ککڑی، تربوز اور آلو کا استعمال کریں۔ -3پیٹ کے کیڑے مارنے کے لیے نہار منہ کھجور کھائیں۔ -4گردوں، مثانہ، پتہ، آنتوں میں قولنجی دردوں کو دور کرنے کے لیے بکثرت کھجور استعمال کریں۔

انجیر:

خوش ذائقہ پھل ہے۔ اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے۔ جلد کی بیماریوں میں مفید ہے، انجیر کھانے سے معدہ اور جگر ٹھیک کام کرتے ہیں، ورم تلی دور ہوتا ہے۔ گلے کی خراش کے لیے دو دانے کھائیں، سخت پھوڑے کے لیے دودھ میں انجیر پکا کر پلٹس باندھیں۔ اس سے جلدی گندا مواد نکل آئے گا۔ بچے کے سر پر بال نہ ہوں انجیر کی چھال اور سمندری جھاگ پیس کر گاڑھا لیپ کریں۔ انجیر کھانے سے بچوں کا قد بڑھتا ہے۔ بوڑھے روزانہ تین، چار دانے دودھ کے ساتھ کھائیں، نظر تیز ہوگی۔ تازہ انجیر توڑنے پر سفید دودھ نکلتا ہے۔ یہ دودھ برص Leucoderma کے داغوں پر لگانے سے نشانات مٹ جاتے ہیں۔

انگور:

انگور مزے دار پھل ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ منقیٰ سوکھا انگور دردوں میں مفید ہے۔ درد شقیقہ میں انگور کا جوس آہستہ آہستہ پئیں افاقہ ہوگا۔ بچوں کو رس پلائیں دانت آسانی سے نکلیں گے۔ زیادہ چکر آتے ہوں اور دماغ گھومتا ہوا محسوس ہو تو انگور اور اس کا رس چکر کم کرنے کے لیے مفید ہے۔ اس کی لکڑی جلا کر پانی کے ساتھ پینے سے گردے کی پتھری نکل جاتی ہے۔ کٹھے ڈکار، گیس کی شکایت اور تیزابیت دور کرنے کے لیے دن میں دو، تین بار انگور کھائیں۔

پپیتا:

پپیتا قدرت خداوندی کا انمول تحفہ ہے۔ اس کے پتوں کا رس ڈینگی بخار کا موثر علاج ہے اور اس سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار فوراً بڑھ جاتی ہے۔ پپیتا کا پھل پیٹ کی بیماریوں کے لیے اکسیر ہے۔ پھوڑا پھنسی ٹھیک نہ ہو رہا ہو تو اس کے اوپر پپیتا کاٹ کر باندھیں جلد ہی اس سے گندہ مواد نکل آئے گا۔ تلی کے ورم میں کچے پپیتہ کا گودا لیں اور سیاہ مرچ، نمک، لیموں نچوڑ کر کھلائیں۔ پپیتا کھانے سے جلد، دانت، ہڈیوں کی بیماریوں میں فائدہ ہوتا ہے۔ پتے ابال کر اعصابی دردوں اور جوڑوں پر باندھیں آرام آئے گا، قبض کشا ہے، کچے پپیتے کا دودھ داد پر لگائیں، تو چند روز میں ٹھیک ہو جائے گا۔ بچھو کاٹ لے اس کا تازہ دودھ لگائیں، آرام آئے گا۔ پیٹ میں اپھارہ، ریاح، درد میں پپیتا یا کچے پپیتے کا پوڈر ایک چٹکی بھر کھلائیں۔ کھانے کے ساتھ پپیتا ضرور استعمال کریں۔ پیٹ پر کبھی بوجھ نہیں پڑے گا۔

رس بھری:

رس بھری کے کھانے سے بلڈ پریشر کم، کمزوری دور اور پیٹ و آنتوں کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں۔

سٹریس پھل:

سٹریس پھل میں سنگترہ، مالٹا، میٹھا، نارنگی، کینو، گریپ فروٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے کھانے اور جوس پینے سے وٹامن سی کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماری سکروی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے۔ ذیابیطس کے لیے مفید ہے۔ سنگترہ پیٹ کی تیزابیت ختم کرتا ہے اور جگر کے افعال کو ٹھیک رکھتا ہے۔ مالٹے اور سنگترے کھانے سے پیٹ کی بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔ منہ سے آنے والی بدبو اور کھٹے ڈکار ختم ہو جاتے ہیں۔

سیب:

مثل مشہور ہے کہ ’’ایک سیب روزانہ کھانے سے آدمی صحت مند، چست و توانا رہتا ہے۔ یہ جگر کو طاقت دیتا ہے۔ گھبراہٹ دور کرتا ہے۔ نیا خون بناتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول کم کرنے کے لیے چھلکے سمیت کھائیں۔ سیب کینسر کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ قبض کشاء ہے، اس کے کھانے سے جسم کے تمام نظام اور افعال ٹھیک رہتے ہیں۔

اس کے جوس میں مصری ملا کر پینے سے کھانسی دور ہوتی ہے، دماغی کمزوری اور بلڈ پریشر میں مفید ہے، ایرانی سیب ذیابیطس میں مفید ہے۔ نشہ کی عادت دور کرتا ہے، اس کے لیے دن میں کئی بار سیب کھلائیں اور نشے کی یا شراب کی مقدار کم کرتے جائیں، عادت بالکل چھوٹ جائے گی۔ سیب کے چھلکوں کی چائے میں لیموں ڈال کر پینا مفید ہے۔ سیب کا باقاعدہ استعمال خون کی نالیاں صاف کرتا ہے، معدے کا السر ٹھیک کرتا ہے، پٹھوں اور دماغ کے لیے سیب کا جوس اکسیر ہے۔ بھوک نہ لگے اور پیاس زیادہ ہو تو سیب کھائیں۔ ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔

انناس:

انناس کا خوبصورت پھل دیکھ کر فوراً اسے کھانے کو دل کرتا ہے۔ انناس پیشاب آور ہے۔ باقاعدہ کھانے سے گردے مثانے کی پتھریاں اور جسم میں موجود مضر صحت مادے سب خارج ہو جاتے ہیں۔ یرقان میں کھلانے سے جگر کے افعال درست ہو جاتے ہیں۔ جن عورتوں کے حمل بار بار گرتے ہیں انہیں چاہے کچا انناس کھلائیں یا پکا انناس دیں۔

حمل میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ جسم میں موجود مضر صحت گلٹیوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ گلے کا غدود بڑھ جانے کی وجہ سے کھانے کی نالی پر دباؤ ہوتا ہے اور کھانا پینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ آیوڈین کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انناس میں آیوڈین ہوتی ہے۔ اس لیے اس مرض میں انناس کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے کھانے سے دردیں دور ہوتی ہیں اور بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے۔ دل و دماغ کو طاقت ملتی ہے۔ انناس پیاس بجھاتا ہے۔ کھانسی زکام میں فائدہ دیتا ہے۔ اگر طبیعت گھبرائے کام میں دل نہ لگے تو مزے لے لے کر انناس کھائیں۔ طبیعت میں فرحت اور تازگی آئے گی۔

شریفہ:

شریفہ خوش ذائقہ پھل ہے۔ یہ دل کو طاقت دیتا ہے۔ گھبراہٹ اور چڑچڑا پن دور کرتا ہے۔ پیشاب کی تکالیف دور کرتا ہے۔ وہم دور کرتا ہے۔ پیچش میں فائدہ دیتا ہے، خون کی نالیاں صاف کرتا ہے۔ دماغ اور پٹھوں کے لیے اکسیر ہے۔ شریفہ کھانے سے معدے کا السر ٹھیک ہوتا ہے۔

شہتوت:

شہتوت کا خوبصورت اور فرحت بخش پھل کھانے سے طبیعت ایک دم بحال ہو جاتی ہے۔ اس کی سینکڑوں اقسام ہیں۔ بعض اقسام تو ایسی ہیں کہ شہتوت کا داد منہ میں رکھتے ہی شیرینی کی طرح گھل جاتا ہے اور مزید کھانے کو دل کرتا ہے۔ منٹوں میں پلیٹ صفا چٹ ہو جاتی ہے۔ شہتوت کا پھل بیماریوں سے پیدا شدہ گندے مادے خارج کرتا ہے۔ جگر کا فعل درست کرتا ہے، خون صاف کرتا ہے۔ پھوڑے پھنسیوں سے حفاظت، گلے کی تکلیف اور خناق Diphtheria کا علاج ہے۔ گھبراہٹ بے چینی اور چڑ چڑے پن کو ختم کرتا ہے۔ اسے کھانے سے اعصاب پرسکون ہو جاتے ہیں۔ دل و دماغ میں ترو تازگی آتی ہے۔

سفید شہتوت جگر اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتا ہے۔ آج کل شربت توت سیاہ کھانسی کا مجرب علاج ہے۔ منہ میں چھالے پڑ گئے ہوں تو کالے شہتوت کا شربت استعمال کریں، گلے کے غدود ٹانسلز بڑھ جائیں، آواز بھاری ہو جائے تو شہتوت کا شربت دیں، آپریشن کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ تمباکو نوشی میں گلے کو صاف رکھتا ہے، گردے صاف کرتا ہے، پیاس گرمی دور کرتا ہے، شہتوت کھانے سے گلے کے غدود ٹانسلز بڑھ نہیں سکتے، گرمی کے دنوں میں متواتر دو ماہ صبح و شام 200 گرام شہتوت کھائیں تو خناق سے چھٹکارا ہو جاتا ہے۔

کیلا :

کیلے میں پوٹاشیم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کے کھانے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔ کیلا کھانے سے جسم میں طاقت آتی ہے، بھوک لگتی ہے۔ جما ہوا بلغم پتلا ہو کر آسانی سے خارج ہو جاتا ہے۔ خشک کھانسی ٹھیک ہوتی ہے۔ آنتوں کا فعل درست ہوتا ہے۔ دست اور پیچش میں فائدہ ہوتا ہے۔ تھکن دور کرتا ہے۔ رنگ صاف کرتا ہے۔ گردوں کو طاقت دیتا ہے۔ گلے کی خراش دور کرتا ہے، کچے کیلے کے سفوف سے معدے کا السر ٹھیک ہوتا ہے، نکسیر والے کو ملک شیک پلائیں، دل میں درد محسوس ہو۔ دو پکے کیلے شہد میں پھینٹ کر کھا لیں۔ ورم اور سوزش کی صورت میں کیلے کے پتے باندھنے سے آرام آ جاتا ہے۔ جہاں کیلے کا درخت ہو وہاں سانپ نہیں آتا۔ خارش اور گنج میں لیموں یا سرکے کے ساتھ اس کا لیپ کریں۔ آواز کی بندش میں کیلا کھلائیں فوراً آرام ہوگا۔ نیند نہ آ رہی ہو تو سونے سے پہلے رات کو کیلے کے ساتھ آدھ چمچ پسا سفید زیرہ اور ایک چمچ شہد کھائیں۔ ان شاء اللہ میٹھی نیند آئے گی۔

گریپ فروٹ:

یہ جوڑوں کے دردوں میں بہت مفید ہے۔ اس کے کھانے سے بال گرنا بند ہو جاتے ہیں۔ جسم سے زہریلے مادے خارج ہوکر درد کو آرام آ جاتا ہے۔ اس کے کھانے سے جسم کے تمام افعال صحیح کام کرتے ہیں۔ گریپ فروٹ روزانہ کھانے سے موٹاپا کم ہوتا ہے۔ نزلہ بخار سے نجات ملتی ہے۔ اس کے چھلکے سایہ میں سکھا لیں۔ سردیوں میں زکام میں چھلکوں کے ساتھ چائے بنائیں اور دن میں تین چار مرتبہ پئیں، سردی کی تکالیف دور ہو جائیں گی۔ دل کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔ زخم پر اس کی پھانک، درمیان سے کاٹ کر رکھ کر پٹی باندھ دیں۔ زخم خراب ہونے سے بچ جائے گا۔ گیس، جلن، بھوک کم، متلی ہو، پیاس لگے تو رس یا چکوترے کی پھانکیں تھوڑا سا نمک لگا کر کھائیں۔ ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔

لیچی:

لیچی ایک خوش ذائقہ، فرحت بخش اور لذید پھل ہے۔ یہ پیاس بجھاتی ہے۔ دل و دماغ کے لیے مفید ہے اور غذائیت کا بھرپور خزانہ ہے۔ پیشاب کی جلن دور کرتی ہے۔ دانتوں کو طاقت بخشتی ہے اور امراض قلب کے لیے مفید ہے۔

لیموں :

لیموں ذائقہ بخش پھل ہے جو ہر کھانے کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ یہ ہاضم ہے۔ قے اور متلی میں لیموں کاٹ کر تھوڑا سا نمک اور کالی مرچ چھڑک کر چٹائیں، لیمن جوس، گلاب کا عرق ہم وزن میں ایک چمچ گلیسرین یا شہد ملا کر لگانے سے کیل اور مہاسے ختم ہو جاتے ہیں۔ لیموں کی سکنجین پینے سے گرمی دور ہوتی ہے۔ ڈی ہائیڈریشن کنٹرول ہو جاتی ہے۔ بخار کم ہوتا ہے۔

الٹیاں ختم ہوتی ہیں۔ پیٹ کے افعال درست رہتے ہیں۔ دانتوں کی بیماری، پائیوریا یا ماسخورہ میں عرق گلاب میں رس ملا کر پلائیں۔ ملیریا میں لیموں کی سکنجین دیں۔ عرق میں بیسن ملا کر چہرے پر لگانے سے داغ دور ہوتے ہیں۔ دمہ میں لیمن جوس دن میں تین بار پلائیں۔ جگر و تلی کے امراض میں بہت فائدہ مند ہے۔ یرقان میں سکنجین بار بار پلائیں۔ سر درد ہو تو قہوہ میں لیموں نچوڑ کر پلائیں، نزلہ زکام میں لیموں کے گرم گودے میں شہد ملا کر کھلائیں۔ موٹاپا دور کرنے کے لیے روزانہ نہار منہ لیمن گراس قہوہ میں ایک لیموں نچوڑ کر لیں۔

ناشپاتی :

ناشپاتی کا خوبصورت پھل دیکھ کر دل للچاتا ہے کہ اسے چھلکے سمیت فوراً منہ میں ڈال لیا جائے۔ اس میں موجود پوٹاشیم خون کی گرمی دور کرتا ہے۔ یہ ہاضم بھی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔ قبض کشا ہے۔ مثانہ کی گرمی دور کرتی ہے۔ ناشپاتی کھانے سے خون کی نالیوں میں لچک Elasticity آتی ہے۔ دل ڈوبتا ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پتھری نکل جاتی ہے۔ یرقان میں بھی بہت مفید ہے۔

لسوڑا:

لسوڑے کا اچار بہت ہی مزیدار اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ اس کے کھانے سے بھوک بڑھتی ہے۔ یہ قبض کشا بھی ہے اور اس کا استعمال بار بار پیشاب آنے کو روکتا ہے۔ بڑھاپے میں بہت مفید ہے۔ کھانسی، دمہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ خون صاف کرتا ہے۔

شکر قندی:

شکر قندی آلو کی بہن ہے۔ اس میں نشاستہ زیادہ ہوتا ہے۔ محنت کرنے والوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ طاقت دیتی ہے اور وزن بڑھانے کے لیے بہت مفید ہے۔

سنگھاڑہ:

دل کی کمزوری، کھانسی اور دستوں میں مفید ہے۔ پیٹ کے افعال کو درست رکھتا ہے۔

جاپانی پھل:

جاپانی پھل بہت ہی مزیدار پھل ہے۔ اس کے کھانے سے معدہ اور جگر کے افعال درست ہوتے ہیں۔ ڈینگی بخار کے مریض کو کھلانے سے اس کے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار نارمل ہوتی ہے اور ہیمو گلوبن بھی ٹھیک رہتا ہے۔

امرود:

امرود بہت ہی ذائقہ بخش اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ امرود کا گودا چاول اور گندم سے تقریباً ایک تہائی زیادہ گلوکوز اپنے اندر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیٹ بھرنے اور جسم کی ضرورت کے مطابق ایندھن کا کام کرتا ہے۔ امرود بے شمار طبی کرشمات کا حامل ہے۔ اس کا استعمال اکثر امراض میں فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ منہ کی سوجن دور کرنے کے لیے امرود کے پتے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پچاس گرام امرود کے پتے ایک لیٹر پانی میں ڈال کر خوب اچھی طرح جوش دیں۔ جب پانی کافی اُبل جائے تو برتن کو چولہے سے نیچے اتار لیں اور چھان لیں۔ اس پانی کو نیم گرم حالت میں لے کر غرارے کریں۔ منہ کی سوجن میں افاقہ حاصل ہوگا اور منہ سے آنے والی بدبو دور ہو جائے گی۔ متلی کی کیفیت میں امرود کا تازہ پھل سونگھنے سے متلی کی کیفیت دور ہو جاتی ہے اور طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔دائمی قبض کو دور کرنے کے لیے صبح نہار منہ حسب منشا سو گرام سے سات سو گرام تک کھانے سے قبض کے مرض سے چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے۔ امرود کے ساتھ پسی ہوئی تھوڑی سی اجوائن کا استعمال بلغم کو روکتا ہے۔ بلغمی طبیعت والے افراد ہمیشہ امرود کے ساتھ کالی مرچ، سیاہ زیرہ، بڑی الائچی اور نمک چھڑک کر کھائیں۔ اس سے اُن کی بلغم آسانی کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔

پھلوں کا رس:

پھل قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ ان میں نشاستہ، پروٹین، وٹامنز، نمکیات اور فائبر (ریشہ) ہوتے ہیں جو جسم کی نشوونما کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی کمی بیشی سے انسان مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہر پھل میں ان اجزاء کی ترکیب الگ الگ خاص طریقے پر ہوتی ہے۔ اناج کے برعکس پھلوں میں جو شکر ہوتی ہے۔ اسے Fructose کہتے ہیں جو جسم کو قوت اور توانائی پہنچاتی ہے۔ پ

ھلوں کے جوس کے روزانہ استعمال سے انسان سمارٹ، حسین اور چست رہتا ہے۔ صحت مند آدمی کے لیے بھی پھل کھانا ضروری ہے اور بیماریوں میں ان کی افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جو خوبیاں پھلوں میں ہوتی ہے۔ وہی ان کے رس میں ہوتی ہے۔ پھلوں کا رس جسم سے زہریلے مادے خارج کر کے اس کو طاقت اور توانائی پہنچاتا ہے۔ اس لیے تازہ پھلوں اور ان کے جوس کا باقاعدہ استعمال کریں۔

Comments
Loading...