Official Web

ن لیگ نے صدارتی آرڈیننسز ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیے

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قوانین رائج کرنے کے اقدام کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ن لیگ کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننسز کا اجراء آئین کی خلاف ورزی ہے ، اس لیے عدالت عالیہ حکومت کو پارلیمنٹ کی تعظیم برقرار رکھنے کا حکم دے۔

درخواست میں صدر پاکستان، سیکرٹری پارلیمنٹ، سیکرٹری سینیٹ، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری وزارت قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما محسن شاہ نواز رانجھا کا کہنا تھاکہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی آرڈیننس کی فیکٹری کے خلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے کیونکہ صدر اسی وقت آرڈیننس جاری کرسکتا ہے جب ہنگامی صورتحال ہو لیکن موجودہ حکومت کے دور میں 20 آرڈیننس صرف گزشتہ ماہ ستمبر سے جاری ہوئے۔

قومی اسمبلی میں حکومت کی پھرتی، 15 بل پیش کیے 11 کو منظور بھی کرلیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ اسپیکرقومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں کو غیر مؤثر کر دیا ہے اور رولز آف بزنس کی خلاف ورزی آئے روز کی جارہی ہے۔

محسن شاہ نواز کا مزید کہنا تھا کہ جتنی بے توقیری پارلیمنٹ کی تحریک انصاف کررہی ہے اتنی آج تک نہیں ہوئی، آرڈیننس کے ذریعے لائے گئے قوانین رحمت کے بجائے زحمت بن جائیں گے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے پارلیمانی تاریخ میں انتہائی مختصر وقت میں ریکارڈ 13 آرڈیننسز پیش کیے گئے۔

صدر مملکت نے نیب ترامیم سمیت 8 نئے آرڈیننس کی منظوری دے دی

ان 13 بلوں میں سے 9 کو بلز کی صورت میں منظور کر لیا گیا تھا جب کہ 7 بلز ایسے تھے جو وفاقی کابینہ نے گزشتہ دنوں آرڈیننسز کے ذریعے منظور کیے تھے۔

حکومت نے ایوان میں پیش کیے گئے بلوں کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیجنے اور ہر شق پر بحث کرائے بغیر فوری منظور کر لیا تھا جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

Comments
Loading...