Official Web

دیسی کوچز کو مسند پر بٹھانے کی تیاریاں ہونے لگیں

دیسی کوچز کو مسند پر بٹھانے کی تیاریاں ہونے لگیں جب کہ پی سی بی نے ہیڈکوچ، بیٹنگ، بولنگ اور اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ کی اسامیاں مشتہر کرتے ہوئے 23 اگست تک درخواستیں طلب کرلیں۔

پی سی بی نے گذشتہ دنوں پورے کوچنگ اسٹاف کے معاہدوں میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، فارغ کیے جانے والوں میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور، بولنگ کوچ اظہر محمود اور ٹرینر گرانٹ لیوڈن شامل تھے، پاکستان کو اکتوبر میں سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل نئے کوچز کا تقرر کرنا ہے۔

گزشتہ روز پی سی بی نے قومی ٹیم کے کوچز کی اسامیاں مشتہر کر دیں، ہیڈکوچ، بیٹنگ، بولنگ اور اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ کی الگ الگ پوزیشنز کیلیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ کا عہدہ ٹرینر کی جگہ متعارف کرایا گیا،امیدواروں کو23 اگست تک درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔

ذرائع کے مطابق حکام کی اولین ترجیح غیرملکی کوچ ہی ہے،البتہ اگر کوئی موزوں امیدوار نہ ملا تو کسی پاکستانی کا ہی تقرر کر دیا جائے گا، پی سی بی کی جانب سے ویب سائٹ پر فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق پلاننگ، ٹورنامنٹس کی تیاری، کارکردگی میں تسلسل اور رینکنگ میں بہتری لانا،سپورٹ اسٹاف کی مدد سے فٹنس کو نکھارنا اور انٹرنیشنل چیلنجز پر پورا اترنے کیلیے ٹیم کلچر پروان چڑھانا ہیڈ کوچ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

لیول ٹو کورس یا مساوی انٹرنیشنل قابلیت لازمی قرار دی گئی ہے،قومی یا انٹرنیشنل سطح پر کام کرنے کا 3سالہ تجربہ ہونا چاہیے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز یا10سال کا تجربہ رکھنے والے انٹرنیشنل کرکٹرز کو بھی ترجیح دی جائے گی،امیدوار کو حکمت عملی تیار، اس پر عمل درآمد کرانے اور قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہیے، ،تحریری اور زبانی طور پر بات دوسروں تک پہنچانے کا ہنر، کمپیوٹر اور کوچنگ سافٹ ویئر کا استعمال بھی جاننا ضروری ہوگا۔

بیٹنگ کوچ کیلیے بھی لیول ٹو کی شرط رکھی گئی ہے، نیشنل یا انٹرنیشنل سطح پر کام کا 3سالہ تجربہ بھی ہونا چاہیے، باقی شرائط میں وہی صلاحیتیں ہونا ضروری ہے جن میں سے بیشتر کا ذکر ہیڈ کوچ کے زمرے میں ہوا ہے،بولنگ کوچ کیلیے بھی لیول ٹو کے ساتھ 3سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا۔

اسٹرینتھ اور کنڈیشننگ کوچ پاکستان ٹیم مینجمنٹ اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کوچز کے ساتھ کام کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی فٹنس کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا ذمہ دار ہوگا،اس کو ہر پلیئر کی انفرادی جسمانی استعداد کو بہتر بنانے کے پروگرام وضع کرنے کے ساتھ ان پر عمل درآمد کی نگرانی بھی کرنا ہوگی۔

اسپورٹس میڈیسن، سائنس یا فزیکل ایجوکیشن میں بیچلر ہونا ضروری ہے،ماسٹرز ڈگری رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی،کسی انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم یا بڑی اسپورٹس تنظیم کے ساتھ کام کرنے کا 3سالہ تجربہ ہونا چاہیے،کوچ کیلیے ضروری ہے کہ قومی اور ریجنل کھلاڑیوں کا فٹنس کے حوالے سے ڈیٹا تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، اسے نیوٹریشن کے طور پر پلیئرز کی رہنمائی کا اہل بھی ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ لیول ٹوکو کوچنگ میں گریجوایشن کا درجہ حاصل ہے،پی سی بی کی طرف سے ہیڈ کوچ سمیت عہدوں کیلیے لیول ٹو کی شرط رکھے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی سابق کرکٹرز کا تقرر ممکن بنانے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے، کسی غیر ملکی کوچ کی دستیابی یا معاملات طے کرنے میں ناکامی ہوئی تو مصباح الحق کو کوچ اور بولنگ میں محمد اکرم کو معاون بنانے کی اطلاعات زیرگردش ہیں۔

Comments
Loading...