Official Web

چہرہ شناخت کرنیوالی ٹیکنالوجی کی بحالی، فیس بک کی درخواست مسترد

واشنگٹن:  امریکا میں فیس بک کی چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا اور بحالی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک درخواست نے امریکی عدالت سے درخواست کی فیس بک کی چہرہ شناخت کرنیوالی ٹیکنالوجی کی بحال کی جائے جس پر امریکی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحالی کی اپیل مسترد کر دی۔

امریکا کی فیڈرل اپیل کورٹ نے فیس بک کی اپیل کو مسترد کردیا جبکہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ فیس بک نے صارفین کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر ان کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اسے محفوظ کیا۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کی چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی سے متعلق مقدمے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ فیس بک پر مقدمہ دائر کرنے والے لوگوں کو ممکنہ طور پر اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا۔

فیس بک کے خلاف فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کمپنی کو پرائیویسی کے حوالے سے قواعد پر سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ ماہ فیس بک کو ڈیٹا پرائیویسی کی تحقیقات کے بعد فیـڈرل ٹریڈ کمیشن کی جانب سے کیا گیا 5 ارب ڈالر کا تاریخی جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

فیس بک نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اپنی چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق ہمیشہ آگاہ کیا ہے، صارفین ٹیکنالوجی کو کسی بھی وقت آن یا آف کرسکتے ہیں۔

فیس بک کے خلاف یہ مقدمہ 2015 میں امریکی ریاست ایلی نوئے سے تعلق رکھنے والے صارفین نے دائر کی جس میں کہا گیا فیس بک صارفین کا بائیومیٹرک ڈیٹا اکٹھا کرکے ریاست کی بائیومیٹرک پرائیویسی پالیسی ایکٹ کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

Comments
Loading...