Official Web

کلسٹر حملے: ملکی سیاسی قیادت کا عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد:  آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے کلسٹر بم حملوں کو ملکی سیاسی قیادت نے وحشیانہ حرکت قرار دیدیا۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بم حملوں کے بعد بھارت کا جنگی جنون بڑھتا جا رہا ہے جس سے خطے کا امن خراب ہو سکتا ہے۔

بھارت کی جان سے لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بم حملوں کے بعد اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ کلسٹر بم کے ذریعے معصوم شہریوں پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملے جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ عالمی برادری کو امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی پر کلسٹر بمباری وحشیانہ حرکت ہے۔ بھارتی دہشتگردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جائے، بھارتی فوج کی سویلین آبادی پر کلسٹر بمباری وحشیانہ حرکت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم بڑھ گئے ہیں۔ بھارتی فوج کی جانب سے معصوم بچوں اور انسانوں کا قتل مودی سرکاری کی جنونیت ظاہر کرتا ہے اسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

آصف علی زرداری نے شہداء کے خاندانوں سے تعزیت کی اور حملوں کے دوران زخمی ہونے والوں کی صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور کلسٹر بم حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ عالمی قانون اور اپنی قراردادوں کے تحت فوری نوٹس لے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی دہشتگردی نہ رکوائی گئی تواقوام متحدہ کا جواز ختم ہو کر رہ جائیگا، بھارتی شیلنگ سے معصوم بچوں، خواتین، دیگرافراد کے زخمی ہونے پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔

چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کلسٹر بم گرا کر کھلے عام جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ بھارتی افواج نہتے اور بے گناہ شہریوں کو شہید کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے، چیرمین سینیٹ نے بھارتی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔

مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی ان حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو امن کے لیے آگے آنا ہو گا۔ پاکستان دیرینہ تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے جاری کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش کو بھارت قبول کرے۔ امریکی صدر نے بھی کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا ہے اور پیشکش کی ہے کہ دیرینہ مطالبے کو حل کرنے کے لیے ہم تیار ہیں۔

وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جارحیت کا نوٹس لے۔مودی سرکار جان بوجھ کر دھیان ہٹانے کے لیے ایسے حملے کر رہی ہے۔ انہیں امریکی صدر کی پیشکش کو قبول کرنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں اپنی قابض فوج کی تعداد میں اضافہ کرکے مذموم مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔ انہیں کشمیریوں کے جذبہ آزادی کے سامنے جھکنا پڑے گا۔

Comments
Loading...