Official Web

امریکا سے امداد نہیں تعاون مانگا ہے: وزیراعظم عمران خان

واشنگٹن:  وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا سے امداد نہیں تعاون مانگا ہے۔ ہم امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں۔ کوئی بھی قوم امداد سے نہیں چل سکتی۔ ہمارے ملک کی تنزلی کی وجہ بد عنوانی ہے۔ ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارت کیساتھ کچھ زیادہ مسائل ہیں جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو ٹیکس دینے کے لیے قائل کر رہا ہوں۔ اپوزیشن ملک کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ سکیورٹی ایشو پر پاک فوج اور حکومت ایک پیج پر ہے۔

امریکی تھنک ٹینک یونائیٹڈ سٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف پیس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں امریکی تھنک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے یہاں مدعو کیا۔ ملک کے حالات بدلنے کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ہم ہمسایوں کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم بھارت کیساتھ کچھ زیادہ مسائل ہیں جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک میں کشمیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نےانڈین وزیراعظم کو کہا ہے کہ اگر آپ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔ غربت کو ختم کرنے کے لیے ہمیں مل کر چلنا ہو گا۔

دہشتگردی کی جنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 150 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا، اس دوران 70 ہزار کے قریب لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ میں پوری دنیا کو کہتا رہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل صرف بات چیت ہے، جنگ مسئلہ کا حل نہیں۔ ہیلری کلنٹن سمیت امریکی سفارتکار مجھے پاکستان میں ملے میں نے کہا تھا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمیں مذاکرات کرنا ہونگے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کیساتھ عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کیساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں، ان کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب ہم معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھے اس دوران سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی، اس دوران سعودی عرب اور ایران کیساتھ مسائل ہیں، پاکستان اس مسئلہ پر ثالثی کر سکتا ہے۔

افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کیساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں، کچھ عرصہ قبل افغان صدر اشرف غنی بھی پاکستان آئے تھے، ہم امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس بار پاکستان، امریکا سمیت تمام لوگ ایک پیج پر ہیں کہ طالبان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمیں مذاکرات کرنا ہونگے۔ واپس جا کر طالبان سے ملوں گا اور افغان حکومت کیساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ کچھ لوگ مذاکرات سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ان میں ہمسایوں کا تعلق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کیساتھ بات ہوئی ہے، وہ ہمارے ساتھ ہے، بھارت کیساتھ امن پر بھی پاک فوج حکومت کے ساتھ ہے، 27 فروری کو بھارتی پائلٹ کو جب پکڑا گیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اگلے دن ہی اسے بھارت میں بھیجا جائے۔ فوج نے ہمارا ساتھ دیا۔ پاک فوج اور حکومت ایک پیج پر ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا کیساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں تھے، سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دوران امریکا نے پاکستان کی مدد کی تاکہ افغانستان میں سوویت یونین کو ہرایا جا سکے اور دنیا بھر کے جہادیوں کو پاکستان لایا گیا تاہم اس کے بعد امریکا ہمیں چھوڑ کر چلے گا اور پریسلر ترامیم کے ذریعے ہم پر پابندیاں لگائی گئیں۔2003ء میں ہمارے پاس ایک ہی سیٹ تھی جب امریکا نے افغانستان میں حملہ کیا، اس دوران میں نے آوازیں بلند کیں کہ پاکستان کو اس تنازع سے الگ ہونا چاہیے کیونکہ القاعدہ، طالبان سمیت دیگر جہادیوں کیساتھ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب بھی آپ کسی علاقے میں جگہ میں فوج کو بھیجتے ہیں وہاں گوریلا جنگ لڑی جاتی ہیں اور عام شہری بھی مارے جاتے ہیں، امریکا کے ساتھ جنگ کے دوران بہت سارے لوگ پاکستان آئے اور پاکستان پر حملہ کرنا شروع کر دیئے، قبائلی علاقوں میں بہت بڑی لڑائی گئی، اس دوران ہمارے شہروں میں حملے ہوئے، جی ایچ کیو میں بھی حملے ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2014ء کے دوران تحریک طالبان پاکستان نے ایک حملے میں 150 کے قریب پشاور میں بچوں کو شہید کیا، جس کے بعد پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پاس کی اور ان کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا، فوج نے بہت شاندار جنگ لڑی اور دہشتگردوں کو ہرایا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے والدین نو آبادیاتی نظام کے دور میں پیدا ہوئے۔ میں آزاد ملک میں پیدا ہونے والی نسل سے ہوں۔ 1960ء میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا، 70ء کے بعد کچھ مسائل آئے اور ہم ترقی برقرار نہ رکھ سکے، اس دوران میں نے کرکٹ کھیلی، اس کے بعد میں نے شوکت خانم ہسپتال بنایا، اس کے بعد میں سیاست میں آیا، میرا سیاست میں آنے کی وجہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنا تھا۔ کرپشن کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ 1996ء میں کرپشن کیخلاف منشور لیکر آیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 2013ء کے الیکشن میں ہم نے ایک صوبے میں حکومت بنائی، جہاں ہم نے پرفارمنس دکھائی اور 2018ء میں اس صوبے کی کارکردگی کی وجہ سے ملک بھر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ملک میں مالی مسائل بہت زیادہ تھے۔ 1960ء میں ہماری معیشت بہت تیزی سے ترقی کر رہی تھی تاہم اس کو بریک لگ گئی، ہماری حکومت صنعتوں کو دوبارہ اٹھانے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کر رہے ہیں جس سے ملکی ایکسپورٹ بڑھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، چین، یورپ، امریکا سمیت دیگر ممالک سے بات کر رہے ہیں کہ ہمیں زراعت میں ٹیکنالوجی دی جائے جس سے ہم اپنی زراعت میں بہتری لا سکیں اور معیشت کو فائدہ پہنچا سکیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے، سابق حکمرانوں نے ملک کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھیجے، منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے پیسے بھیجے گئے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلا مشکل مرحلہ اقتصادی حالات تھے۔ حکمران طبقے نے ملک کو بہت زیادہ معاشی نقصان پہنچایا۔ اپوزیشن ملک کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ایک مافیا کا مقابلہ کیا ہے، سپریم کورٹ میں ان کا کیس چلا جہاں سپریم کورٹ کے جج نے بھی کہا کہ یہ سسلین مافیا ہیں، نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کو بلیک میل کیا گیا۔ انہوں نے 30 سال اقتدار میں گزارے، بیوروکریسی، سپریم کورٹ سمیت تمام ادارے میں انہوں نے پنجے گاڑھے ہوئے تھے۔ میں نے ایک کمپین چلائی، سب نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں یکساں نظام لا رہے ہیں، مدارس، سکولوں میں نظام ایک جیسا لا رہے ہیں، مدارس کے بچوں کو بھی وہی تعلیم دیں گے جو سکولوں کے بچوں کو ملتی ہے۔ یہ مختلف مرحلہ ہے لیکن میں پوری کوشش کروں گا کہ اس مسئلے کو حل کروں۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میری حکومت اور وقت ثابت کرے گا کہ ہم اقلیتیوں کو مکمل تحفظ دیں گے، اس سے قبل کوئی حکومت ایسا نہیں کر سکی، اس کی ایک مثال مسیحی خاتون (آسیہ بی بی) کا کیس ہے، جس میں ریاست نے مکمل ذمہ داری اُٹھائی۔عدالتی فیصلے کے بعد ایک مذہبی جماعت نے ملک کو بند کر دیا اور احتجاجی مظاہرہ کیا لیکن حکومت نے بڑا فیصلہ کیا اور ان کو جیل میں بند کیا۔ ہم ثابت کریں گے کہ یہ حکومت اقلیتیوں کو مکمل حقوق دے گی۔ بیرون ملک لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، یہ ہمارا مسئلہ ہے اور ہم اسے حل کر کے دکھائیں گے۔

میڈیا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے، کبھی کبھار پاکستان میں میڈیا کبھی قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ ملک میں 80 چینلز ہیں جن میں سے 3 چینلز کو حکومت سے مسائل ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا ہوئی تو ایک طاقتور میڈیا ان کے دفاع میں آ گیا۔ کیا میڈیا ایسے کام کرتی ہے، ان پر نظر رکھیں گے لیکن سنسر شپ نہیں لا رہے۔ میڈیا کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آنے میں میڈیا کا بہت کردار ہے، کیونکہ کچھ سال پہلے صرف ایک ہی چینل تھا جو صرف حکومت کی خبریں دیتا تھا، تاہم پرائیویٹ چینلز آنے کے بعد میرے نظریے کو میڈیا نے پھیلایا۔ پاناما لیکس کے ذریعے میرا پیغام میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا۔ سینسر شپ کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے این جی اوز کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے، کینسر کے ہسپتال بنانے میں دو بڑی این جی اوز نے اہم کردار ادا کیا، تاہم این جی اوز کی وجہ سے کچھ مسائل ہیں، سب سے بڑی مثال ڈاکٹر شکیل آفریدی ہے، اسی وجہ سے دہشتگردوں نے این جی اوز کو نشانہ بنانہ شروع کر دیا، اسی دوران انتہا پسندوں نے پولیو ورکرز کو بھی نشانہ بنایا جس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ این جی اوز پر نظر رکھی جائے، 3 جرمن این جی اوز پاکستان چھوڑ چکی ہیں تاہم انہیں واپس لانے کی کوشش کرینگے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ کشمیری عوام کیا سوچتے ہیں، اس لیے انکی رائے کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔ اس تنازع کا حل ہے، پرویز مشرف کے دور میں وزرائے خارجہ نے بتایا کہ ہم مسئلے کے قریب پہنچ چکے تھے تاہم میں سب کو بتانا چاہتا ہوں مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، یہ بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی ایم کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے مسائل حقیقی ہیں، یہ نوجوان لوگ ہیں جو بہت جذباتی ہیں اور پاک فوج پر حملہ کر رہے ہیں، الیکشن ہو گئے ہیں یہاں پر مسائل حل ہو جائینگے۔ جنگ کے دوران ان کو بہت سارے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسائل حل کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں جس کی مثال قبائلی اضلاع میں الیکشن کرانا ہیں، اب ہمیں وہاں ترقیاتی کام کریں گے اور ان کے مسائل حل کرنیکی کوشش کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت کے مسائل بھگت چکے ہیں، پلوامہ میں حملے کرنے والوں کا پاکستان سے تعلق نہیں تھا، یہ حملہ کشمیری نوجوان نے کیا، جیش محمد مقبوضہ وادی میں لڑ رہی ہے، ان کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں، کسی جہادی تنظیموں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نیو یارک ٹائمز کو بھی یکطرفہ سٹوری نہیں چھاپنی چاہیے میں چاہتا ہوں امریکی میڈیا دوسرے لوگوں کا بھی مؤقف سنے۔ یکطرفہ مؤقف سے سنسنی پھیلتی ہے۔
Comments
Loading...