Official Web

پیکنگ میٹریل کے 86 کنسائنمنٹ میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع

کراچی: 

ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن نے ملکی تاریخ میں پہلی بار درآمدی بل کی ادائیگیوں پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کر دیاہے اوراس ضمن میں چین کے کسٹمزحکام سے بھی مدد طلب کرلی ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمزانٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی کے ڈائریکٹر عرفان جاوید نے چین کے کسٹمزحکام کو ایک مکتوب ارسال کیاہے جس میں چین سے درآمدہونے والے پیکنگ میٹریل کے لیے ہونے والی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کو شک ہے کہ چین سے درآمدہونے والے پیکنگ میٹریل میں بڑے پیمانے پر انڈرانوائسنگ کی جارہی ہے اور حقیقی ویلیو کی ادائیگی کے لیے حوالہ ہنڈی کا سہارا لیا گیا ہے، کسٹمزانٹیلی جنس کے مطابق میسرزایس ایم فوڈمیکرزلمیٹڈ، ملتان نے دیگر متعدد ٹریڈرز اور چینی کمپنیوں کے ساتھ مل کرنہ صرف مس ڈیکلیئریشن کی بلکہ اصل رقم کی ادائیگی کو بھی چھپایا ہے جو منی لانڈرنگ کاشبہ پیدا کررہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ 2پاکستانی باشندے جن کی نشاندہی تنویربٹ اورحنیف محمدکے نام سے ہوئی ہے،انھوں نے چین میں امپورٹ ایکسپورٹ کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اس کے علاوہ چین میں بینک اکاؤنٹ بھی پاکستان میں موجود چائنیز بینک میں کھولے ہوئے ہیں۔

کسٹمزانٹیلی جنس حکام کا مانناہے کہ بینک اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہورہے ہیں جس سے براہ راست چین میں مینوفیکچررزکو ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ درآمدی انوائس پر درج رقم کی ادائیگی نارمل بینکنگ چینل سے ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ کسٹمزانٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے86 ایسے کنسائنمنٹس کی انوائسنگ کا پتہ لگایاہے جس میں نہ صرف مس ڈیکلیئریشن کی گئی ہے بلکہ ان میں منی لانڈرنگ کا بھی شبہ ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمزانٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے چین کے کسٹمزحکام سے مذکورہ86کنسائنمنٹس کے اصل انوائس طلب کرلیے ہیں جبکہ تنویربٹ اورحنیف محمد کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق چائنیز کسٹمز حکام سے یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ چائنیزمنیوفیکچررزکو فنڈ کی منتقلی اور جولائی2015 تا اپریل 2019 کے دوران درآمدکیے جانے والے کنسائمنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔

Comments
Loading...