Official Web

اوپن ٹینس: ویمنز سنگلز ٹرافی سارہ منصور لے اڑیں

کراچی: 

پاکستان کی نمبر ون اور ٹاپ سیڈ سارہ منصور نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اوپن ٹینس چیمپئن شپ کا لیڈیز سنگلز ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

ڈی اے کریک کلب پر پاکستان نیوی کے تحت اورپاکستان ٹینس فیڈریشن کے تعاون سے کھیلی جانے والی چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی اوپن ٹینس چیمپئن شپ کا لیڈیز سنگلز ایونٹ ٹاپ سیڈ اسلام آباد کی سارہ منصور لے اڑیں،ان کی حریف شدید گرمی سے نڈھال نظر آئیں۔

یکطرفہ فائنل میں سارہ کسی مزاحمت کے بغیر مہک کھوکھر کو 0-6 اور 1-6 سے زیر کرکے ٹرافی کے ساتھ 50 ہزار روپے انعام کی حقدار بن گئیں۔

حامد اسرار نے مطاہر محمود کو 3-5 اور 1-4 سے مات دے کر بوائز انڈر 14 سنگلز ایونٹ جیت لیا، حسنین علی رضوان نے دراف داس کو 0-4 اور0-4 سے شکست دے کر بوائز انڈر12 سنگلزکے فائنل میں جگہ بنائی جہاں ان کا مقابلہ اپنے بھائی حیدر علی رضوان سے ہوگا جنھوں نے دوسرے سیمی فائنل میں اپنے چھوٹے بھائی حمزہ علی رضوان کو 1-4 اور1-4 سے زیر کیا، تاہم حمزہ علی رضوان بوائز انڈر10سنگلز ایونٹ جیتنے میں کامیاب رہے ، انھوں فائنل میں سمیر زمان کو 0-4 اور1-4 سے ہرادیا۔

عابد علی اکبر اوراحمد چوہدری کی جوڑی نے ہیرا عاشق اور وقاص ملک کو 4-6 اور 1-6 سے قابو کرکے مینز ڈبلز ٹائٹل جیت لیا، سینئرمینز ڈبلز ایونٹ اسد علی اور ان کے پارٹنر کلیم گھانچی نے جیت لیا، انھوں نے فائنل میں علی وحید اور رفیع درباری کی جوڑی کو 6-7 اور4-6 سے مات دی، پی این ایس کارساز پر اسپیشل کھلاڑیوں کے درمیان وہیل چیئرٹینس کا منیز ایونٹ عاصم نے جیت لیا۔

فائنل میں مظہر کو 9-10اور 8-10 سے مات ہوئی، سعدیہ اسپیشل لیڈیزسنگلز چیمپئن بن گئیں، فائنل میں میری 2-10 اور2-10 سے ناکام رہیں، چیمپئن شپ کا فائنل اتوار کو ٹاپ سیڈ عقیل خان اور سیکنڈ سیڈ مزمل مرتضیٰ کے درمیان کھیلا جائے گا، فاتح کو وننگ ٹرافی کے ساتھ ایک لاکھ روپے انعام ملے گا جبکہ رنر ٹرافی کے ساتھ 50 ہزار روپے انعام پائے گا،اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمود انعامات تقسیم کریں گے۔

انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کی آرزو ہے ، سارہ منصور

پاکستان کی نمبرون ویمن ٹینس پلیئراورچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے لیڈیز ٹائٹل کی فاتح سارہ منصور نے کہا ہے کہ اگر مواقع میسرآئیں توانٹرنیشنل ٹینس میں حصہ لیکراپنے ملک وقوم کا نام روشن کرسکتی ہوں، اسپانسرزکوآگے بڑھ کراپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ایونٹ میں کامیابی کے بعد ڈی اے کریک کلب میں نمائندہ ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی قومی نمبر1سارہ منصور نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آئی ٹی ایف کے انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کروں لیکن ایسے مقابلوں کے لیے مالی وسائل کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اگراسپانسرزمل جائیں توکھلاڑیوں کے لیے بہت آسانی ہوجاتی ہے اوراسے اپنی اہلیت اور صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسرآجاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سارہ منصور نے کہاکہ ٹینس میں دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اورہم پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں لیکن یہ امرخوش کن ہے کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن ملک میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریننگ اورکوچنگ کا اہتمام کرنے کے لیے کوشاں ہے، یہ عمل کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو جلا بخش سکتا ہے۔

ایک سوال پرسارہ منصور نے کہا کہ فائنل میں کراچی میں پڑنے والی37 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی نے بہت پریشان کیا لیکن پراعتماد اندازمیں اسٹروکس کھیلے اورکامیابی پائی، ایک اورسوال پرانھوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کا 55سالہ ڈیوس کپ  کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کا دورہ خوش آئند ہوگا لیکن ستمبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ان مقابلوں میں کامیابی کے لیے میزبان سائیڈ کوسخت محنت کرنا ہوگی۔

Comments
Loading...