Official Web

قبائلی اضلاع کے انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد قبائلی علاقوں میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں۔

صوبائی اسمبلی کے 16 حلقوں میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا، شام 5 بجے پولنگ کا عمل ختم ہوگیا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کی تین، ضلع مہمند میں دو، ضلع خیبر میں 3، ضلع کرم میں 2 اور ضلع اورکزئی میں ایک صوبائی نشست کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

ضلع شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی 2،2 نشستوں کیلئے پولنگ ہوئی، اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سابق فرنٹیر ریجن میں ایک صوبائی نشست رکھی گئی ہے۔

پی کے 115 کے علاقوں میں جانی خیل، بٹہ خیل، جنگل خیل، تحصیل لالچی، تحصیل گمبٹ اور تحصیل درہ آدم خیل شامل ہیں۔

عام نشستوں پر 282 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ خواتین کی 22 اور اقلیتوں کی 6 مخصوص نشستیں ہیں۔

قبائلی اضلاع میں الیکشن کا انعقاد، حلقوں کا احوال

16 حلقوں میں انتخابات کیلئے 1897 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 464 پولنگ اسٹیشن کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔

ایک ہزار 39 مخلوط پولنگ اسٹیشن جب کہ صرف مردوں کے لیے 482 اور خواتین کے لیے مختص 376 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، تمام پولنگ اسٹیشنز کے باہر فوج تعینات ہے جب کہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے اندر بھی فوج تعینات کی گئی ہے۔

تمام پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جب کہ ووٹنگ کے لیے 28 لاکھ 91 ہزار بیلٹ پیپرز پرنٹ کرائے گئے۔

خواتین کا سی سی ٹی وی کیمروں پر تحفظات کا اظہار

ضلع کرم میں خواتین ووٹرز نے سی سی ٹی وی کیمروں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے ڈی آر او کرم ایجنسی کو ٹیلی فون کر کے خواتین کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

ترجمان الیکشن کمیشن الطاف حان کا کہنا ہے کہ ڈی آر او نے خواتین کو یقین دہانی کرائی کہ کیمرے صرف سکیورٹی کے لیے ہیں، تحفظات دور ہونے پر 11 خواتین نے ووٹ کاسٹ کر لیے۔

شکایات اور نتائج موصول کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں سیل قائم کردیا گیا ہے، جو 20 اور 21 جولائی کو 24 گھنٹے کام کرے گا۔

الیکشن سے متعلق شکایات 0519210809 اور 0519210810 پر موصول کی جائیں گی۔

ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان پرانے سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا۔

پریزائیڈنگ افسر فارم 45 پولنگ ایجنٹس کے حوالے کرے گا اور ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچائے گا جہاں سے نتائج الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ارسال کر دیئے جائیں گے۔

صوبائی الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں نیٹ ورک کا مسئلہ ہے اس لیے نتائج واٹس ایپ پر فراہم کیے جائیں گے۔

Comments
Loading...