Official Web

آلو بخارے کے حیرت انگیز طبی فوائد

لاہور:  آلو بخارا طبی اہمیت کا حامل پھل ہے اور اس کے انگنت طبی فوائد ہیں۔ بخار اور بیماری کے بعد ذائقہ کو تبدیل کرنے کیلئے آلو بخاراکا استعمال کیا جاتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق شیخ الرئیس بوعلی سینا‘ علامہ برہان الدین نفیس اور ملاسدیدی نے اپنی اپنی تصانیف میں آلو بخارا کے استعمالات لکھے ہیں۔ سرد تر تاثیر کا حامل یہ پھل حقیقی طور پر ترش ہے مگر پختہ ہوکر جب اس کا رنگ سیاہی مائل ہوجائے تو شیریں ہوجاتا ہے۔ اس کے پودے کشمیر‘ ہمالیہ‘ پاکستان‘ افغانستان اور ایران میں بکثرت پائے جاتے ہیں جبکہ اس کا اصلی مسکن دمشق ہے۔ آلو بخارا پاکستان میں موسم گرما کے عوارضات اور حدت صفرا کیلئے بکثرت کھایا جانے والا پھل ہے۔ وادی کشمیر میں دلکش باغات کثرت سے پائے جاتے ہیں جن میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔ آلو بخارا کشمیر کے مخصوص پھلوں میں سے ایک ہے۔ اس میں دوائی اور غذائی دونوں قسم کی خصوصیات نمایاں ہیں۔

غذائی اجزاء :

آلو بخارا قدرت کے ان عطیات میں سے ہے جن میں غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ آلو بخارے میں چونا فاسفورس اور فولاد کی تو وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ جو حضرات کمزور ہوں یا خون کی کمی کا شکار ہوں اور وہ فولاد کا کوئی مرکب استعمال کرنے کے خواہش مند ہوں تو وہ شربت فولاد یا کشتہ فولاد کی بجائے آلو بخارا کھائیں۔ آلو بخارا ملٹی وٹامن پھل ہے۔ اس میں کئی قسم کے وٹامن پائے جاتے ہیں۔ آلو بخارا وٹامن الف، ب، ج اور ز (پی) سے بھرپور ہوتاہے۔ وٹامن (پی) کی کمی سے خون پتلا ہوجاتا ہے اور بدن کے مختلف حصّوں میں سے پھوٹ نکلتا ہے۔ آلو بخارا میں وٹامن پی خون کے اس عارضے کا علاج ہے۔ اس پھل میں چکنائی، پروٹین ، وٹامن اے، بی، سی،کے اور ای پائے جاتے ہیں علاوہ ازیں کیلشیم ،آئرن ،پوٹاشیم ،سوڈیم اور میگنیشم بکثرت پائے جاتے ہیں۔

آلو بخارا اینٹی آکسیڈنٹ کا حامل ہے یہ کینسر کے امکان کو ختم کرتا ہے۔ یہ جسمانی اور دماغی صحت کیلئے بھی بہتر ہے۔ یہ کولیسٹرول کی شرح کو کم کرتا ہے اور جگر کی صحت کیلئے اکسیر مانا جاتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس لئے بی پی کو کنٹرول بھی کرتا ہے۔ دل کیلئے مفید غذا ہے۔ دل کے تمام امراض خفقان، اختلاج وغیرہ میں فائدہ مند ہے۔ ایسے مریضوں کو جو قبض میں مبتلا ہوں آلو بخارا بالخصوص مفید ہے۔ یہ قبض کشا بھی ہے ۔ اس کا مزاج سرد تر ہے اور اس طرح جسم کی گرمی اور خشکی دور کرتا ہے، پیاس کو بجھاتا ہے اور بدن کی حدت میں نافع ہے۔ گرمی کی وجہ سے بعض حضرات کے سر میں درد ہوجاتا ہے اس صورت میں آلو بخارا کھائیں۔ موسم گرما میں قے اور متلی کا مؤثر علاج ہے۔ اس موسم میں خون میں جوش ہوتا ہے جس سے پھوڑے پھنسیاں اور خارش جیسے عوارض لاحق ہوجاتے ہیں۔

آلو بخارا ان عوارض کا علاج ہے۔ صفرا میں بھی مفید ہے۔ پھل کے طور پر آلو بخارا پانچ سے دس دانے کھائیں۔ دس دانے کھانے سے آسانی سے اجابت ہوتی ہے۔ آلو بخارا معدہ کی تیزابیت اور جلن کیلئے فائدہ مند ہے۔

جن لوگوں کو پیشاب میں یورک ایسڈ یا تیزابی مادّوں کی زیادہ مقدار خارج ہوتی ہو انہیں آلو بخارا استعمال کرنا چاہیے۔ بخار میں آلو بخارا بڑا مؤثر ہوتا ہے۔ خشک ہونے سے اس کے غذائی اجزاء اور وٹامن ضائع نہیں ہوتے۔ طب یونانی میں خشک آلو بخارا دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

نکسیر کی صورت میں آلو بخارا خشک آٹھ عدد مٹی کے برتن میں ایک سیر پانی میں بھگودیں پھر اس برتن سے پانی پئیں جس قدر اس برتن سے پانی پئیں اسی قدر پانی اس برتن میں دوبارہ ڈال دیں۔ دوسرے دن نیا آلو بخارا ڈالیں چند روز میں نکسیر رک جائے گی۔ خشک آلو بخارا چھ عدد، املی دس گرام ایک کپ
پانی میں بھگودیں، دو تین گھنٹہ بعد چھان کر نمک ملا کر پئیں اس سے قبض دور ہوگی۔ املی اور آلو بخارے کا پانی موسم گرما کیلئے بہترین مشروب ہے۔ جسم کی حدت کو دور کرتا ہے اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہے۔ املی اور آلو بخارا کے پانی میں برف اور نمک کا اضافہ کریں تو لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔
رگوں اور ہڈیوں کے امراض میں مفید مانا گیا ہے۔ بدہضمی کی شکایت میں آلو بخار کا استعمال کرایا جاتا ہے جس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں اس کا شربت، گرمی کے دانوں میں توانائی فراہم کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آلو بخارے کے استعمال سے خون کی کمی کی شکایت کافور ہوجاتی ہے اور یہ چھاتی کے کینسر سے بچاؤ میں معاون ہے۔ شوگر کے مریض بھی اسے ہچکچاہٹ کے بغیر کھا سکتے ہیں۔ آلو بخارے کا استعمال بالوں،جلد اور بینائی کیلئے بھی مفید ہے۔ گرمیوں میں آلو بخارے کا شربت نہ صرف تازہ دم کرتا ہے بلکہ توانائی بھی پہنچاتا ہے۔

خشک آلو بخارا اور کولون کینسر:

کینسر میں کولون(آنت) کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے صرف امریکہ میں ہر سال 50ہزار افراد مر جاتے ہیں لیکن ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خشک آلوبخارے کے ذریعے اس مرض کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ میساچیوسٹ کی بائیولوجیکل کانفرنس میں ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق کار پروفیسر نینسی ٹرنر نے بتایا ہے کہ خشک آلو بخارے میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے آنت میں ایسے جرثومے پیدا ہوتے ہیں کہ کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔ ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں بھی ایسی ہی باتیں سامنے آچکی ہیں۔

یہ کینسر ہماری آنت میں ہونے والی سوزش سے پیدا ہوتا ہے اور اگر جرثوموں کو نقصان پہنچنے لگے تو یہ کینسر تیز ہوجاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک آلو بخارے کی وجہ سے ہمارے جسم میں ’فینولک‘کمپائونڈبڑھتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے انٹی آکسیڈینٹس بنتے ہیں جو کولون کینسر کو کم کرتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہناہے کہ آلو بخارا کھانے سے جسم میں درج ذیل تبدیلیاں آتی ہیں:

*آنت میں مائیکروبائیوٹاکی تعداد میں اضافہ جس کی وجہ سے کینسر کم ہوتا ہے۔

*ان جراثیم میں کمی جن کی وجہ سے کولون کینسر پیدا ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک آلو بخارے کی وجہ سے کینسر کے خطرات نہ صرف کم ہوتے ہیں بلکہ کینسر کی صورت میں اس میں بہتری بھی آتی ہے۔

Comments
Loading...