Official Web

سرفراز احمد کو صرف ٹی ٹوئنٹی کا کپتان مقرر کیے جانے کا امکان

سرفراز احمد کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت تک محدود کرکے اگلے برس آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک ذمہ داریاں دیے جانے کا امکان ہے۔

بورڈ حکام چارسال بعد بھارت میں شیڈول ورلڈکپ کو سامنے رکھ کر کپتان سمیت تمام ٹیم انتظامیہ کے تقرر کے خواہشمند ہیں۔ نئے ڈھانچہ میں اب طویل المدت کپتان کے اعلان سمیت تمام کوچنگ سٹاف کو بھی ذمہ داریاں اسی پلاننگ کے ذریعے سونپنے کی تجویز ہے۔

قومی ٹیم کے تمام کوچنگ اسٹاف کا معاہدہ ورلڈکپ تک کا تھا، اب نئے سرے سے تقرریاں ہوں گی جس کے لیے ہیڈ کوچ، بولنگ کوچ، بیٹنگ کوچ اور دوسرے عہدوں کے لیے اگلے چند روز میں اشتہار جاری کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ٹیم کے ساتھ مزید کام کرنے کی خواہش کا اظہارکرنے والے مکی آرتھر کو بھی ازسرنو اپلائی کرنا ہوگا۔ پی سی بی کے رولز کے مطابق ایک لاکھ روپےسے زیادہ تنخواہ پانے والوں کے تقرر سے پہلے اشتہار دینا لازمی ہے، جس کے بعد انٹرویو ز کے ذریعے تقرر کیا جاتا ہے۔

ماضی میں اس طریقہ کار کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی تاہم موجودہ انتظامیہ نے اس بار تمام تقرریاں اسی فارمولے سے کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ہیڈکوچ اور دوسرے کوچنگ سٹاف کو چارسالہ کنٹریکٹ آفر کرتے وقت مختلف ٹارگٹ دیئے جائیں گے، غیرتسلی بخش کارکردگی کی صورت میں بورڈ کو کنٹریکٹ ختم کرکے فارغ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا،چار سالہ معاہدہ دینے کا مقصد ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے کے ساتھ کوچنگ اسٹاف کو جاب کی سیکیورٹی کے ساتھ مکمل اعتماد دینا ہے تاکہ ہر آفیشل یکسوئی کے ساتھ ذمہ داریاں نبھا کر ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی لانے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

دوسری جانب بورڈ حکام نے سیریز ٹو سیریز کپتان کی تقرری کے بجائے لمبے عرصے کے لیے کپتان کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرفراز احمد کے مستقبل کے حوالے سے ابھی تک مختلف تجاویز پر غورجاری ہے جن میں انہیں صرف ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت تک محدود کرکے اگلے برس آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں۔ ون ڈے اور ٹیسٹ میچز کے لیے کسی اور کھلاڑی کا بطور کپتان چار سال تک انتخاب کیے جانے کا امکان ہے اوراس کی تقرری بھی پرفارمنس سے مشروط ہوگی۔

Comments
Loading...