Official Web

آئی فون کے ڈیزائنر کا صارفین کو مسلسل فون استعمال کرنے گریز کرنے کا مشورہ

ایپل کے سابق ایگزیکٹو جونی آئیو نے آئی فون کے مسلسل استعمال سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔

جونی آئیو ایپل کے سابق چیف ڈیزائن آفیسر ہیں اور انہوں نے حال ہی میں اپنا عہدہ چھوڑ کر ایپل کمپنی کو خیرباد کہا ہے۔

نیو یارکر ٹیک فیسٹ کانفرنس میں ریڈرز ڈائجسٹ کے ایڈیٹر ان چیف ڈیوڈ ریمنک سے بات کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ دنیا پر آئی فون کے کیا اثرات دیکھتے ہیں جس کے جواب میں جونی نے کہا کہ جیسے کسی دوسرے آلے کا ایک مثبت استعمال ہوتا ہے اور منفی بھی، یہی معاملہ آئی فون کے ساتھ بھی ہے۔

آئی فون کے منفی استعمال کے سوال پر جونی آئیو نے کہا کہ اس کا مسلسل منفی استعمال ہوتا ہے۔

آئیو کا کہنا غلط نہیں ہے کیونکہ دیگر کئی تحقیقات بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

کچھ تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ایک عام صارف اوسطاً 3.3 گھنٹے ایک دن میں موبائل کا استعمال کرتا ہے اور ہر 10 منٹ کے بعد سوشل میڈیا اپ ڈیٹس ، میسیجز اور دوسرے کاموں کے لیے موبائل فون کی اسکرین میں جھانکتے رہتے ہیں۔

آئیو سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنا فون زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے جب کہ آئی فون کے بانی مانے جانے والے اسٹیو جابز کا بھی یہی کہنا تھا۔

2007 میں آئی فون کے آنے کے بعد نیویارک ٹائمز کے رائٹر نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اسٹیو جاب نے ایک سادے آئی فون پر توجہ مرکوز رکھی ہے، آئی فون میں ابتدائی طور پر کوئی ایپ اسٹور بھی نہیں رکھا گیا تھا، وہ فون کو صرف ایک فون رکھنا چاہتے تھے لیکن اب صورت حال اس کی بر عکس ہے۔

آئی فون ایک کال کرنے یا پیغام موصول کر نے سے بہت آگے پہنچ چکا ہے۔کچھ ماہرین نے بہت آغاز ہی میں ڈیجیٹل ایڈکشن کے لیے خبردار کر دیا تھا، خصوصاً نوجوانوں کے لیے۔یہ اڈیکشن بعد میں ذہنی دباؤ، پریشانی اور کئی سنگین مسائل کا سسب بن جاتی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے لوگوں سے رابطہ رکھنے کی خواہش ختم ہو جاتی ہے۔

ماہر نفسیات وکٹوریا ایل ڈنکلے کا کہنا ہے کہ موبائل کی دنیا سے باہر نکل کر آپ بہت مثبت تبدیلیاں لاسکتے ہیں، یوں کہیں تو غلط نہیں ہوگا کہ آپ خوش رہ سکتے ہیں۔

Comments
Loading...