Official Web

آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری تک معاہدہ منظر عام پر نہیں لا سکتے: حفیظ شیخ

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی بینک (آئی ایم بینک) بورڈ کی منظوری تک معاہدہ منظر عام پر نہیں لا سکتے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزراء اور چیئرمین ایف بی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجود حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالت بہت بری تھی، جب حکومت آئی تو قرضہ 31 ہزار ارب روپے سے زیادہ تھا، برآمدات گر رہی تھیں اور مالی خسارہ 23 کھرب ہوچکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے کئی انداز اور کئی مقاصد ہیں، آئی ایم ایف کے پاس جو نہ گئے ہوں وہ کہیں کہ انہونی ہو رہی ہے، ہر آئی ایم ایف معاہدے کی چند بنیادی شرائط ہوتی ہیں۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں گے، دقتوں کے دن ختم ہونے جا رہے ہیں، چھ سے آٹھ مہینے استحکام کے ہیں، استحکام کے بعد کا وقت ترقی کا ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہےجس کی منظوری ان کا بورڈ دےگا، آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری تک معاہدہ منظر عام پر نہیں لا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کا تین سال کا پروگرام ہے، آئی ایم ایف کے قرض کی شرح سود 3.2 فیصد ہو گی، یہ اچھی خبریں ہیں جس سے عوام کو فائدہ ہو گا۔

حفیظ شیخ نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں اے ڈی بی اور ورلڈ بینک سے دو سے تین ارب ڈالر مل جائیں گے، اسلامک بینک سے بھی 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ 9.2 ارب ڈالر چین سمیت دوست ملکوں سے حاصل کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے پاکستان کی اسٹاک ایکسچنج میں بہتری آ رہی ہے، اس سے تاثر ملےگا کہ پاکستان ذمہ دار معاشی سرگرمیوں سے آگے بڑھ رہا ہے، ہم پاکستان کےمعاشی استحکام کے سفر کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ہماری فوج سمیت سرکاری اداروں میں کفایت شعاری کی مہم شروع کی جائےگی، مختلف شعبوں میں اخراجات کو کم اور بچت کو فروغ دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ٹیکس آمدنی کا 11 فیصد ہے، 20 لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں، 6 لاکھ تنخوا دار اور 360 کمپنیاں پورے ملک کا 85 فیصد ٹیکس دیتی ہیں، کوشش ہو گی جو پہلے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مہنگائی پریشان کر رہی ہے، ہمیں مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے، مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو استعمال کیا جائے گا۔

Comments
Loading...