Official Web

انسانی طرز زندگی میں تبدیلی کینسر کی بڑی وجہ ہے: ماہرین

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی)میں جاری تین روزہ کینسر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے خون، چھاتی، پھیپھڑوں، معدہ، نظام انہضام، گردہ، مثانہ اور بڑی آنت سے متعلق کینسر پر روشنی ڈالی۔

ماہرین نے کہا کہ کینسر دنیا بھر میں دوسرا بڑا جان لیوا مرض ہے اور گزشتہ سال تقریباً ساڑھے 9 ملین سے زائدکینسر کے مریضوں کی اموات ہوئیں، ان میں سے تقریباً 70 فیصد اموات کا تعلق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک سے تھا جب کہ تمباکو نوشی اس بیماری کی اہم وجوہات کی فہرست میں سب سے آگے ہے۔

ایس آئی یو ٹی میں کینسر کے مریضوں کا علاج 1989 شروع ہوا، وقت کے ساتھ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث کینسر کے مریضوں کے لیے حنیفہ سلیمان آنکولوجی سینٹر کا قیام عمل میں آیا جس کو تمام جدید و مفت سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔

اس مرکز میں ابتدائی طور پر گردہ و مثانہ کے کینسر کے مریضوں کا علاج ہوتا رہا تاہم اب ابتدائی مراحل میں چھاتی، سر اور گردن اور کچھ خون کے کینسر کا علاج بھی ہو رہا ہے۔

ایس آئی یو ٹی میں منعقد تین روزہ کینسر کانفرنس میں 250 سے زائد طبی ماہرین نے شرکت کی۔—. فوٹو بشکریہ ایس آئی یو ٹی

چھاتی کے کینسر کے حوالے سے ماہرین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بروقت تشخیص سے علاج کے لیے نئی راہیں ہموار ہوگئی ہیں جس کے باعث مریض لمبی زندگی جی لیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپلانٹ کے بعد بھی کینسر ہوسکتا ہے جس کی اصل وجہ وائرس ہے جس کا بعد میں کیمو تھراپی اور ٹارگٹڈ تھراپی سے علاج کیا جاتا ہے۔

پراسٹیٹ کینسر سے متعلق ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ بیماری بڑی عمر کے لوگوں میں ہوتی ہے مگر ہر کسی کو علاج کی ضرورت نہیں پڑتی البتہ جن مریضوں میں یہ شدّت اختیار کر لیتی ہے انہیں تشخیص کے بعد علاج تجویز کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ماہرین نے معدہ، بڑی آنت اور خصیہ کے کینسر کے امراض کی بنیادی وجہ انسانی طرز زندگی میں تبدیلی قرار دیا ہے۔

کینسر کانفرنس میں 250 سے زائد طبی ماہرین نے شرکت کررہے ہیں جس میں امریکا سے آنے والے ماہرین کینسر ڈاکٹر فریڈریک سمتھ، ڈاکٹر مظفر قزلباش، ڈاکٹر بدرمیاں، ڈاکٹر خالد متین، ڈاکٹر صائمہ شریف، ڈاکٹر پرویز رحمان، ڈاکٹر ادریس میاں اور ایس آئی یوٹی کے ماہرین میں ڈاکٹر نرجس مظفر، ڈاکٹر نجیب نعمت اللہ اور ڈاکٹر افشاں اصغر شامل ہیں۔

Comments
Loading...