Official Web

لیگ مرحلہ؛ پشاور زلمی بہترین لاہور قلندرز بد ترین ٹیم ثابت

لاہور: پی ایس ایل 4 کے لیگ مرحلے میں پشاور زلمی بہترین لاہور قلندرز بدترین ٹیم ثابت ہوئی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کی کارکردگی میں بھی تسلسل کا فقدان نظر آیا، بیٹسمینوں میں شین واٹسن سرفہرست رہے، ٹاپ5میں صرف ایک پاکستانی بابر اعظم شامل ہیں، بولرز میں حسن علی سے آگے رہے جبکہ کوئی غیر ملکی ٹاپ 5 میں موجود نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل 4کے یو اے ای میں 26 میچز مکمل ہونے پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے9میں سے 7 مقابلے جیت کر14 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پر جگہ بنائی، ٹیم نے پلے آف مرحلے تک رسائی بھی حاصل کرلی۔ پشاور زلمی اتنے ہی مقابلوں میں 6 فتوحات کے ساتھ 12 پوائنٹس جوڑ کر دوسرے نمبر پر رہی،اس نے فائنل فور ٹیموں میں بھی اپنا نام درج کرالیا۔ تیسری پوزیشن پر موجود اسلام آباد یونائیٹڈ کے 9 میچز میں 8 پوائنٹس تھے۔ کراچی کنگز نے 8 مقابلوں میں اتنے ہی پوائنٹس جوڑے لیکن نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے چوتھے نمبر پر تھے۔

لاہور قلندرز نے 8میں سے صرف 3میچز جیتے، ٹیم 6پوائنٹس کیساتھ پانچویں پوزیشن پر تھی، ملتان سلطانز کا صرف ایک میچ باقی اور4 پوائنٹس کی وجہ سے پلے آف مرحلے تک رسائی کی امیدیں پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔ ہفتے کو کراچی میں میچزکا مرحلہ شروع ہونے پر اسلام آباد یونائیٹڈ نے پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا مجموعہ 238حاصل کرتے ہوئے لاہور قلندرز کیخلاف 49رنز سے فتح سمیٹی، ٹیم نے 10 پوائنٹس کیساتھ پلے آف مرحلے میں جگہ بنالی،اس صورتحال میں کراچی کنگز کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ہاتھوں شکست ہی لاہور قلندرز کی موہوم سی امید باقی رکھ سکتی تھی، ملتان سلطانز کو بھاری مارجن سے زیر کرکے 8پوائنٹس کیساتھ پلے آف مرحلے میں رسائی کا موقع ہوتا لیکن عثمان شنواری نے آخری اوور میں5رنز کا دفاع کرلیا۔

یوں کراچی کنگزکی10پوائنٹس کے ساتھ پلے آف مرحلے میں رسائی ممکن ہوگئی، پیر کو لاہور قلندرز کا ملتان سلطانز سے میچ دونوں کیلیے بے کار کی مشق بن گیا،7وکٹ سے آسان فتح کی بدولت شعیب ملک الیون پانچویں اور لاہور قلندرز رن ریٹ کی فرق کی وجہ سے مسلسل چوتھے ایڈیشن میں آخری نمبر پر رہی، پی ایس ایل 4کے آخری لیگ میچ میں فیصلہ ہونا تھا کہ پشاورزلمی کی ٹیم14پوائنٹس کے ساتھ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے برابر آتی یا کراچی کنگز اپنی پوزیشن بہتر کرتے، زلمی نے فتح حاصل کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے پوائنٹس ٹیبل کی حکمرانی بھی چھین لی۔

لیگ میچز کے اختتام پر سب سے زیادہ 352 رنز شین واٹسن نے بنائے ہیں، اس کے بعد کولن انگرام 321، لیوک رونکی 297،بابر اعظم293اور لیام لیونگ اسٹون 291ٹاپ5میں شامل ہیں،کولن انگرام اور کیمرون ڈیلپورٹ نے 1، 1 سنچری بنائی ہے۔ بولرز میں حسن علی 21 وکٹوں کیساتھ سب سے آگے ہیں، فہیم اشرف 19 شکار کرکے دوسرے نمبر پر ہیں، سہیل تنویر 15، عمر خان، وہاب ریاض13،13،محمد عامر، عثمان شنواری 12، 12، سندیپ لامی چینے، حارث رؤف اور محمد نواز11،11شکار کرنے میں کامیاب ہوئے،شاہد آفریدی،راحت علی، شاہین آفریدی اور فواد احمد 10،10وکٹیں حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں، ایک اننگز میں بہترین بولنگ لامی چینے کی رہی،انھوں نے صرف 10رنز دیکر 4وکٹیں اڑا دی تھیں۔

Comments
Loading...