Official Web

نائن الیون کے بعد ملا عمر کبھی پاکستان نہیں آئے، ڈچ صحافی کا انکشاف

طالبان کے بانی رہنما ملا محمد عمر کے بارے میں ایک نئی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ نائن الیون کے بعد کبھی پاکستان نہیں آئے بلکہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کے بہت قریب روپوش تھے۔

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافی بیٹے ڈیم کی نئی کتاب دی سیکریٹ لائف آف ملا عمر میں کہا گیا ہے کہ عمومی طور پر امریکا سمیت ہر کوئی یہ سمجھتا رہا کہ ملاعمر پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا، بلکہ وہ افغانستان میں اپنے آبائی صوبے زابل میں امریکہ کے فارورڈ آپریٹنگ بیس ولورین سے صرف تین میل کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے۔

بیٹے ڈیم نے اس کتاب کو لکھنے کے لیے تحقیق میں پانچ سال صرف کیے جس کے دوران متعدد طالبان رہنماؤں اور ارکان سے بھی گفتگو کی ہے جن میں ملا عمر کے ذاتی محافظ جبار عمری بھی شامل ہیں۔ جبار عمری کے مطابق انھوں نے 2013 میں ملا عمر کے انتقال تک ان کی حفاظت کی۔

بیٹے ڈیم نے بتایا کہ امریکی فوجیوں نے ایک موقع پر ملا عمر کو پناہ دی جانے والی جگہ کا معائنہ بھی کیا تھا لیکن وہ انھیں تلاش نہ کر سکے، گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ کئی بار کھیتی باڑی کے لیے بنائی گئی سرنگوں میں چھپ جاتے تھے۔

صحافی بیٹے ڈیم کے مطابق ملا عمر اپنی تنظیم کو اپنی جائے پناہ سے چلانے میں کامیاب نہ تھے تاہم انھی کی منظوری سے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان کے دفتر کا قیام ہوا۔

دسمبر 2001 میں ملا عمر نے طالبان کے انتظامی امور کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع ملا عبید اللہ کو سونپ دی تھی۔ امریکا نے ملا عمر کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔

Comments
Loading...