Official Web

ایف بی آر انٹرنیٹ سروسز پر عائد ٹیکس کی وصولی کیلیے رولز جاری کرنے میں ناکام

اسلام آباد: 

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے 8 ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود فیس بُک، ایمازون، گوگل اور یو ٹیوب سمیت پاکستانی صارفین کو فراہم کی جانے والی 15 اقسام کی انٹرنیٹ سروسز پر عائد کردہ 15 فیصد ٹیکس وصولی کے لیے رولز جاری نہیں کیے جاسکے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینیئر افسر  نے گذشتہ روز ’’ایکسپریس‘‘کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں فنانس ایکٹ کے ذریعے  یکم جولائی سے فیس بُک ،ایمازون ،گوگل اور یو ٹیوب سمیت دیگر تمام نان ریذیڈنٹس کی جانب سے ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ اسپیس، ڈیزائنگ، ویب سائٹس کے لیے ڈیجٹل و سائبر اسپیس ،آن لائن کمپیوٹنگ،اشیاء کی آن لائن خریدوفروخت سمیت پاکستانی صارفین کو فراہم کی جانے والی درجنوں آف شور ڈیجیٹل سروسز پر 15 فیصد ٹیکس لاگو کررکھا ہے مگر ان سروسز پر ٹیکس وصولی کے مکینزم کے لیے رُولز متعارف کروانا تھے جو ابھی تک نہیں کروائے جاسکے، جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے  8 ماہ کے دوران ان سروسز سے ٹیکس کی مد میں کوئی وصولیاں نہیں ہوسکیں۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز پر  فنانس ایکٹ کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 2 میں 22  بی کے نام سے ایک نئی ذیلی شق شامل کی گئی ہے جس میں آف شور ڈیجیٹل سروسز پر فیس کی تعریف وضع کی گئی ہے.

مذکورہ کلاز میں کہا گیا ہے کہ آف شور ڈیجیٹل سروسز پر فیس کا مطلب کسی بھی نان ریزیڈنٹ کی جانب سے آن لائن ایڈورٹائزنگ کے لیے  فراہم کی گئی سروسز پر ادا کی جانے والی فیس ہے جس میں ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ اسپیس، ڈیزائنگ، کریئٹنگ، ہوسٹنگ، مینٹیننس آف ویب سائٹس، ویب سائٹس کے لیے ڈیجیٹل اور سائبر اسپیس، ایڈورٹائزنگ،ای میلز،آن لائن کمپیوٹنگ،بلاگز، کسی بھی قسم کا آن لائن مواد(Content)اور آن لائن ڈیٹا کے علاوہ ڈیجیٹل کانٹنٹ کی اسٹورنگ اور ڈسٹری بیوشن، ڈیجیٹل ٹیکسٹ،ڈیجیٹل آڈیو و ڈیجیٹل ویڈیوکی اپ لوڈنگ کی سروسز کی فراہمی بھی شامل ہے جبکہ اسی فنانس ایکٹ کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 6 میں بھی ترامیم کی گئی ہیں اور رائیلٹی کے ساتھ  آف شور ڈیجیٹل سروسز کے لیے  فیس کے الفاظ کو شامل کرکے ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔

ان آف شور ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کی شرح کا تعین کرنے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کی  شق 152 میں ون ڈبل بی کے بعد ون سی کے نام سے ایک نئی کلاز شامل کی گئی ہے جس میں تمام بینکوں و مالیاتی اداروں کو فیس بُک ،ایمازون ،گوگل اور یو ٹیوب سمیت دیگر تمام نان ریزیڈنٹس کی جانب سے ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ اسپیس، ڈیزائنگ، ویب سائٹس کے لیے ڈیجیٹل و سائبر اسپیس ،آن لائن کمپیوٹنگ، اشیاء کی آن لائن خریدو فروخت سمیت  پاکستانی صارفین کو فراہم کی جانے والی درجنوں آف شور ڈیجٹل سروسز کی فیس کی مد میں رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے موقع پر 15 فیصد ٹیکس کٹوتی کو لازمی قرار دیا گیا ہے، یہ ٹیکس آف شور ڈیجیٹل سروسز کی فیس  کی مد میں خام  رقم پر کٹوتی کرتا ہے مگر اس بارے میں تاحال رولز جاری نہیں ہوسکے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق بینکنگ سیکٹر سے کٹوتی کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصولیاں ہورہی ہیں مگر گوگل و فیس بُک سمیت دیگرآف شور ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کی مد میں ابھی تک کوئی وصولیاں نہیں ہوئیں ارو نہ ہی اس بارے میں ایف بی آر کے پاس کوئی تفصیلات موجود ہیں۔

Comments
Loading...