Official Web

ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے قدرتی طریقے

جگر بدنِ انسانی میں پائے جانے والے اعضاء میں سے سب سے بڑا عضو ہے۔ یہ نہ صرف جسامت کے لحاظ سے بڑا ہے بلکہ اپنے افعال و کار کردگی کے حوالے سے بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

جگر کا سب سے بڑا کام غذا سے حاصل ہونے والے مختلف غذائی اجزا کو صاف کرکے خون کی شکل میں پورے جسم کی طرف منتقل کرنا ہے۔ دورانِ ہضم ہمارے معدے میں کئی ایک غیر ضروری اور زہریلے مادے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جنھیں فضلات کے ساتھ خارج کر دیتا ہے۔ جسم کو قدرتی طور پرحرارت پہنچانے والا مادہ گلائیکوجن بھی جگر میں محفوظ ہوتا رہتا ہے جو بوقتِ ضرورت جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے کام آتا ہے۔

اسی طرح غیر ضروری چربی کے ذرات بھی جگر اپنے اندر جمع کرتا رہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر استعمال میں لاکر بدن کو توانائی مہیا کرتا ہے۔ اگر جگر کے افعال وکارکردگی میں نقص واقع ہوجائے تو پورا بدن ِ انسانی بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جگر کو متاثر کرنے والے عوارض میں سے سب سے بڑا فیکٹر ورم یا سوزش ہے جسے طبی اصطلاح میں ہیپاٹائٹس کہا جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس ایک ضدی اور موذی مرض ہے۔ جدید طبی تحقیقات سے اس کی درج ذیل اقسام سامنے آچکی ہیں۔

1۔ہیپاٹائٹس A وائرس HAV ،2 ۔ ہیپاٹائٹس B وائرسHBV ، 3۔ ہیپاٹائٹس C وائرسHCV ، 4۔ ہیپاٹائٹس D  وائرسHDV ،5 ۔ہیپاٹائٹس E وائرس HEV ، 6۔ہیپاٹائٹس F وائرس۔

ہیپاٹائٹس کی مذکورہ اقسام میں سے HBV اور HCV کو قدرے خطرناک خیال جاتا ہے تاہم یہ بھی قابلِ علاج ہیں۔ پرانے زمانوں میں جگر کی سوزش یا ورمِ جگر کو اس قدر خطر ناک نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ عام جگری امراض کی طرز پر ہی علاج کر لیا جاتا تھا۔ موجودہ دور میں سائنسی تحقیقات نے انسان کو بے شمار سہولتیں مہیا کرنے کیساتھ ساتھ لا تعداد پریشانیاں بھی عطا کی ہیں۔ فی زمانہ سائنسی طرز پر دوا سازی کرنے والی کمپنیاں جب کسی بیماری کی دوا تیار کرتی ہیں تو اسے مارکیٹ کرنے سے پہلے عوام الناس کو اس بیماری سے اس قدر خوفزدہ کیا جاتا ہے کہ عام آدمی سے لے کر خواص تک راتوں کی نیند اور دن کا چین کھو بیٹھتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس کے متعلق کیا جانے والا پروپیگنڈا سب کے سامنے ہے۔ اسے ایڈز سے بھی بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ ہیپاٹائٹس B اور C کے علاوہ دیگر اقسام تو اکثر اوقات غذا کے ردو بدل سے ہی ٹھیک ہوجا یا کرتی ہیں۔ البتہ B اور Cکا علاج توجہ اور احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بھی صد فی صد قابلِ علاج ہیںکیونکہ حکیمِ اعظم حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’ہر مرض کے لیے دوا ہے‘‘ لہٰذا ایسے تمام معالجین جو کسی بھی مرض کو لا علاج قرار دے کر مایوسی کا پر چار کرتے ہیں، وہ اسلامی تعلیمات کی نفی اور نبی کریم حضرت محمدﷺ کے فرمان سے انکار کے مرتکب ہوتے ہیں۔

نیچروپیتھی کا نظریہ بھی اسی حدیث پاک کی عملی تفسیر کا پرچار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکیمِ کائنات اس وقت تک کوئی مرض پیدا ہی نہیں کرتا جب تک اس کی دوا پیدا نہ کردے۔ لہٰذا دنیا میں پائے جانے والے تمام امراض قابلِ علاج ہیں۔ان کی ادویات دریافت اور تیار کرنا معالجین اور طبی ماہرین کی ذمہ داری ہے۔ ایک کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں ہر دسواں شخص کسی نہ کسی طرح ہیپاٹائٹس کا شکار ہے۔ مرض کے اس قدر زیادہ پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ لوگوں میں حفظانِ صحت کے اصولوں سے ناواقفیت اور عدم پاسداری ہے۔علاوہ ازیں ملک کی کثیر آبادی طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ٹوٹکوں پر انحصار کرتی ہے جو اکثر اوقات فوائد کی بجائے نقصان کا باعث ثابت ہو رہے ہیں۔

ہیپا ٹائٹس کیا ہے؟

طبی اصطلاح میں ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش، کارکردگی متاثر ہونے یا اس میں نقص واقع ہونے کو کہا جاتا ہے۔ جگر کی یہ متاثرہ حالت اس پر ورم یا سوزش آجانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مرض کی شدت سے بعض اوقات جگر کے خلیات بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ یہ ہیپاٹائٹس کی شدید کیفیت ہوتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یرقان ہیپاٹائٹس سے با لکل الگ اور دوسرا مرض ہے لیکن یاد رہے کہ یرقان کا زیادہ دیر تک رہنا ہیپاٹائٹس کی نشاندہی کرتا ہے۔

یرقان پر قابو پانا قدرے آسان ہوتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس ایک موذی مرض ہے۔ اگرا س کی تشخیص بروقت ہو جائے تو اس سے چھٹکارا پانا بھی آسان ہوتا ہے لیکن اگر اس کے علاج پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ جگر کو بری طرح متاثر کر کے بدنِ انسانی کے لیے کئی دوسرے عوارض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایک انتہائی اہم امر کا ذکر ضروری ہے کہ بعض ادویات اور الکوحل کا بے دریغ استعمال بھی ہیپاٹائٹس کے حملے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس مرض کی علامات بھی کافی مدت بعد نمودار ہونا شروع ہوتی ہیں۔ مریض بظاہر صحت مند اور توانا دکھائی دیتا ہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے اس کی علامات ظاہر ہوکر مریض کو نحیف اور کمزور کرتی چلی جاتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس کی علامات

ہر وقت تھکن کا احساس رہنا۔

ہلکا ہلکا بخار رہنا اور سردی محسوس ہونا۔

مریض کی بھوک میں روز بروز کمی واقع ہونا۔

متلی اور قے کا تواتر سے آنا ۔

ڈائریا اور بد ہضمی کا اکثر رہنا۔

سر میں درد اور بھاری پن محسوس ہونا

پیٹ کا ہر وقت بھرا بھرا لگنا اور اس میں درد کا محسوس ہو نا۔

آنکھوں کی رنگت سفیدی مائل زرد ہو جانا۔

بعض مریضوں کے جسم پر ہلکی ہلکی اور بعد ازاں شدید خارش ہو نا۔

مریض کے پیشاب کی رنگت بدل جانا۔

بعض اوقات مریض کوجوڑوں کا درد لاحق ہو جا نا۔

جگر کے بیرونی مقام پر جلد کا سرخ اور اْبھرا اْبھرا ہو جا نا۔

جلد کو چھو نے سے زخم کا احساس ہو نا۔

ہیپا ٹائٹس کے اسباب

غیر معیاری اور غیر متوازن غذا کا متواتر استعمال

چکنائیوں کا زیادہ استعمال

ہیپا ٹائٹس وائرس کا حملہ

الکحل کا زیادہ استعمال

چٹ پٹی اور تیز مصالحہ جات غذاؤں کا استعمال

زہر آلود غذاؤں کا استعمال

جسمانی میٹابولزم میں خرابی پیدا ہو نا

آ لودہ پا نی کا استعمال

غیر محفوظ جنسی تعلقات

ہیپا ٹائٹس میں مبتلا افراد کے خون کی تندرست افراد میں منتقلی

ہیپا ٹائٹس سے متاثرہ افراد کی استعمال شدہ سرنج کا استعمال

دندان سازی کے غیر صاف شدہ آلا ت کا استعمال

حجام کے غیر صاف شدہ اوزاروں کا استعمال

دوران آپریشن آلات کی مناسب صفائی نہ ہو نا

ہیپا ٹائٹس میں مبتلا ماں کا بچے کو دودھ پلانا

دورانِ حمل خواتین کو ہیپا ٹائٹس وائرس کے حملے کا عام دنوں کی نسبت زیادہ خطرہ ہو تا ہے۔

قوتِ مْدافعت میں کمی واقع ہو نا

سرخ گوشت کا تواتر سے استعمال

بیگن کے پکوڑوں کا عام استعمال

بچاؤ کی تدابیر

پا نی صاف اور ابلا ہوا پینا

غذا میں مناسب اور متوازن اجزا کا انتخاب

چکنائیوں کا کم سے کم استعمال

سرخ گوشت اور تیز مصالحہ جات کا مناسب استعمال

الکحل اور اس طرح کی دیگر ادویا ت سے مکمل پرہیز

صرف اپنے جیون ساتھی تک محدود رہنا

معدے کی درستگی کا دھیان رکھنا

انجیکشن ہمیشہ نئی سرنج سے لگوانا

خون کی منتقلی کا محفوظ طریقہ اپنانا

اتائی اور بازاری دندان سازوں سے دور رہنا

شیو وغیرہ صرف اپنے محفو ظ آلات سے کرنا

عطائیوں اور اشتہاری معالجین سے بچنا

موسمی پھلوں اور سبزیوں کا با قاعدہ استعمال

قوت مدافعت میں اضافہ کرنے والی غذاؤں کا انتخاب

دودھ کو روز مرہ استعمال میں لانا

ماہر معالج سے باقاعدہ مشاورت میں رہنا

نباتات سے گھریلو علاج

قدرتی علاج کے مطابق کاسنی، مکو،افسنتین اور ریوند چینی چند بڑی اور مشہور مفردات ہیں جو جگر کے تمام عوارض کو دور کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔

1۔کاسنی اور مکو کے عرقیات کو شربتِ بزوری میں ملا کر پینا ورمِ جگر کو دور کرنے کیلئے اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں کاسنی ایک اینٹی وائرل ریمیڈی ہے جو کسی بھی قسم کی انفیکشن کے خاتمے کیلئے زود اثر ہے۔

2۔کاسنی کی جڑوں کا جو شاندہ بناکر شہد کے ساتھ استعمال کرنا بھی جگر کے تمام امراض کو دور کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ماہر معالجین معجون دبید الورد کو عرقِ کاسنی اور عرق مکو کے ساتھ تجویز کرتے ہیں

3 ۔ مکو بھی جگری امراض میں ایک مفید اور زود اثر دوا ہے جو ورم سمیت دیگر تمام خرابیوں کے تدارک میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔عام طور پر اس کا عرق استعمال کیا جا تا ہے۔تاہم اس کے پتوں کو بطورِ سالن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔مکو کے پھل نہ صرف طبی فوائد کے حامل ہو تے ہیں بلکہ لذیذ اور مزیدار بھی۔

4۔افسنتین کے پھلوںاور پتوں کا سفوف بنا کر 2سے3گرام کی خوراک دن میں 3باراستعمال کرنے سے بھی خاطر خواہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ افسنتین کا جو شاندہ پینے سے بھی مطلوبہ مقاصد پو رے ہو جا تے ہیں۔افسنتین ایسے امراضِ جگر میں زیادہ کارگر ہو تی ہے جو معدے کی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہو تے ہیں۔افسنتین قوتِ مدافعت کو مضبوط کرنے کیلئے بھی ٹانک کا کام دیتی ہے۔اس مقصد کیلئے افسنتین کے پھولوں کا رس شہد میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے پھولوں کی گلقند بنا کر بھی استعمال میںلائی جا سکتی ہے۔افسنتین کا روغن نہ صرف جگری امراض کو دور کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو تا ہے بلکہ غلبہ صفراء کی وجہ سے پیدا ہو نے والی تمام بیماریوں کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔

5۔ریوند چینی ایک مرکب ا لقوی دوا ہے اور اسے جگر سے خصوصی نسبت دی جاتی ہے۔ اسے تمام عوارض جن میں جگر متاثر ہو سرعت سے اثر دکھا تی ہے۔ خاص طور پر بخار کی علامات کے زیادہ دیر تک بر قرار رہنے میں ریوند چینی کا استعمال شاندار نتائج دکھاتا ہے بخار کی علامات فوراََ ختم ہو جاتی ہیں۔

غذائی احتیاط

بطورِ پرہیز گوشت،تلی ہوئی اور مرغن غذاؤں۔ تیز مصالحہ جات، کافی، قہوہ، چائے، شراب، بیگن، دال مسور، بھنڈی، گوبھی، مونگرے، تڑکے والے چاول بازاری مشروبات اور بیکری مصنوعات سے مکمل طور پر بچا جائے۔بناسپتی کی جگہ کسی اچھی نسل کا کوکنگ آئل استعمال کریں۔ہلکی پھلکی غذاؤں، سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کیا جائے۔ انشاء اللہ آپ نہ صرف مرض کے اثراتِ بد سے محفوظ ہو جائیں گے بلکہ دیگر کئی امراض کے حملوں سے بھی بچے رہیں گے۔

نوٹ:۔ مرض کی شدید علامات کی صورت میں خود معالجاتی طرزِ عمل سے بچتے ہوئے کسی ماہر معالج سے رجوع آپ کی تندرستی اور صحت مند زندگی کی ضمانت فرا ہم کرتا ہے۔

حکیم نیاز احمد ڈیال

Comments
Loading...