Official Web

بلڈ ٹیسٹ جو بچے کی قبل از وقت پیدائش کی پیش گوئی کرسکتا ہے

واشنگٹن: کئی اداروں میں مطالعے اور تحقیق کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ حاملہ خاتون کے خون میں بعض پروٹین سے ان میں بچوں کی قبل از وقت پیدائش کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

اگرچہ جن ماؤں کے بچے وقت سے پہلے پیدا ہوئے ہوں ان کے اگلے بچے بھی قبل ازوقت پیدا ہوسکتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچے 37 ہفتوں کی مدتِ حمل سے پہلے ہی دنیا میں آجاتے ہیں اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر پری ٹرم یا قبل ازوقت بچوں کی پیدائش خود ماں اور بچے کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔ اس طرح پیدا ہونے والے بچے کئی طرح کے خطرات اور صحت کے مسائل سے بھی دوچار ہوسکتے ہیں۔

امریکا میں جرنل آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجی میں برگھم اینڈ وومن ہسپتال کے ماہرین نے کہا ہے کہ حاملہ ہونے کے بعد پہلی سہ ماہی میں خون میں تیرتے پانچ مختلف پروٹین کے خردبینی ذرات ازخود وقت سے پہلے پیدائش کی خبر دے سکتے ہیں۔

اس پر کام کرنے والے ماہر تھامس مک ایلراتھ کہتے ہیں کہ ہم مریض میں ایسے مارکر دیکھنا چاہتے ہیں جو قبل ازوقت بچوں کی پیدائش کی پیشگوئی کرسکیں اور ایک ماہ کو پہلی سہ ماہی سے آخری مرحلے تک رہنمائی اور علاج میں مدد مل سکے۔ سائنس کی زبان میں انہیں ’سرکیولیٹنگ مائیکروپارٹیکلز‘ سی ایم پی کہا جاتا ہے جو خلیات (سیلز) سے نکلتے رہتے ہیں اور ان میں پروٹین ہوتا ہے۔  اگرچہ انہیں کینسر کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے لیکن اب ان کی افادیت حمل کی پیشگوئی میں بھی سامنے آئی ہے۔ ماہرین نے ایسے پانچ پروٹین کو ڈھونڈا ہے جو ماں میں بچے کی پیدائش سے وابستہ ہوتے ہیں۔

اس کے لیے ماہرین نے قبل ازوقت بچوں کو جنم دینے والی 87 خواتین اور اپنے وقت پر ماں بننے والی 174 خواتین کے خون کے نمونے دیکھے تو معلوم ہوا کہ جن خواتین کے خون میں سی ایم پی کی مقدار زیادہ تھی ان میں بچے کی قبل ازوقت پیدائش کا خطرہ 20 فیصد زیادہ تھا۔

سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ خون میں ان بایومارکر کو دیکھ کر زچہ و بچہ کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔

Comments
Loading...